Showing posts with label عامر شہزاد. Show all posts
Showing posts with label عامر شہزاد. Show all posts

Thursday, 13 April 2023

خط میں لکھی اظہار کی صورت رکھ لی تھی

 خط میں لکھی، اظہار کی صورت، رکھ لی تھی

بھیجی تھی جو میں نے محبت، رکھ لی تھی

میں پگڑی کا واسطہ سن کے لوٹ آیا

میں نے اس کے باپ کی عزت رکھ لی تھی

بچے بھوک سے ساری رات نہیں سوئے

مالک نے مزدور کی اُجرت رکھ لی تھی

Saturday, 12 February 2022

ستم دیکھو الم دیکھو مگر کتنا ہے دم دیکھو

 ستم دیکھو، الم دیکھو، مگر کتنا ہے دم دیکھو

کہ بازو کٹ گئے ہیں پھر بھی تھاما ہے علَم دیکھو

نہیں بادِ صبا کی کوئی سرگوشی بھی گلشن میں

فضا میں حبس ہے اتنا کلی کی آنکھ نم دیکھو

طرب کی محفلیں ہیں تو کہیں ماتم بھی ہے برپا

یہ فطرت کا تقاضہ ہے خوشی کے ساتھ غم دیکھو

Wednesday, 6 October 2021

جدائی نے تری بے چین سا پھر رات بھر رکھا

 جدائی نے تِری بے چین سا پھر رات بھر رکھا

خیالوں میں تِری بانہوں کے تکیے پہ جو سر رکھا

بہت تنہا سی لگتی تھی تِرے جانے سے محفل تو

میں بھی یہ سوچ کر اٹھا کیا ہے اب ادھر رکھا

مکاں تو بن گیا لیکن نہ جو تم رہ سکے اس میں

ابھی تک اس لیے اس کا نہیں ہے نام گھر رکھا

Sunday, 3 October 2021

جفاکار سے میں وفا چاہتا ہوں

 جفا کار سے میں وفا چاہتا ہوں

'مِری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں'

جلایا ہے اب کے جو گھر میں نے اپنا

تو ظلمت میں تھوڑی ضیا چاہتا ہوں

جو کہتے ہو کاٹوں تِرا ہجر یونہی

تو تیشہ بھی فرہاد سا چاہتا ہوں

Friday, 1 October 2021

طاقت کا ہے غرور جنوں ہے خمار ہے

 طاقت کا ہے غرور جنوں ہے خمار ہے

ایسے ہی آدمی کے مقدّر میں ہار ہے

ہے دیس میرا گرچہ خزاں کی لپیٹ میں

مٹی سے میں جُڑا ہوں، اُمیدِ بہار ہے

جذبات سے جو کھیلے کسی وضعدار کے

بدبخت نامراد سزاوارِ دار ہے

Thursday, 30 September 2021

جو ہم پہ چھائی شامِ غریباں ہے مستقل

 جو ہم پہ چھائی شامِ غریباں ہے مستقل

اس کی سحر نہ ہو گی، ہمیں مار دیجیۓ

تینوں ہی ناتواں ہیں، پہاڑوں سی زندگی

ہم سے بسر نہ ہو گی، ہمیں مار دیجیۓ

دو چار دن کا چرچا رہے گا اور اس کے بعد

کوئی خبر نہ ہو گی، ہمیں مار دیجیۓ

Thursday, 16 September 2021

زخم سارے خوں اگلتے رہ گئے تھے

 زخم سارے خوں اگلتے رہ گئے تھے

چارہ گر کے سب ہی حیلے رہ گئے تھے

آ گیا وہ دشمنِ جاں غیر کے ساتھ

ناتواں دل پر یہ حملے رہ گئے تھے

کون ہو جی تم نہیں پہچانا ہم نے

سننے کو بس یہ ہی جملے رہ گئے تھے

Friday, 27 November 2020

غم کی ملی جو عشق میں جاگیر دیکھ کر

 غم کی ملی جو عشق میں جاگیر دیکھ کر

خوابوں کو نوچ ڈالو گے تعبیر دیکھ کر

مجھ سے کہا طبیب نے تم لاعلاج ہو

آنکھوں میں ہجر یار کی تاثیر دیکھ کر

حالت بگڑ گئی ہے دلِ بے قرار کی

کُنجِ قفس میں وحشتِ نخچیر دیکھ کر

Thursday, 26 November 2020

گلشن میں انتشار کا قائل نہیں ہوں میں

 گلشن میں انتشار کا قائل نہیں ہوں میں

ایسی کسی بہار کا قائل نہیں ہوں میں

ترجیح دوں گا موت کو میں پیاس کے سبب

ساقی مگر ادھار کا قائل نہیں ہوں میں

اٹھ جائے حشر میرے لہو میں تو بات ہے

معمول کے فشار کا قائل نہیں ہوں میں