خط میں لکھی، اظہار کی صورت، رکھ لی تھی
بھیجی تھی جو میں نے محبت، رکھ لی تھی
میں پگڑی کا واسطہ سن کے لوٹ آیا
میں نے اس کے باپ کی عزت رکھ لی تھی
بچے بھوک سے ساری رات نہیں سوئے
مالک نے مزدور کی اُجرت رکھ لی تھی
خط میں لکھی، اظہار کی صورت، رکھ لی تھی
بھیجی تھی جو میں نے محبت، رکھ لی تھی
میں پگڑی کا واسطہ سن کے لوٹ آیا
میں نے اس کے باپ کی عزت رکھ لی تھی
بچے بھوک سے ساری رات نہیں سوئے
مالک نے مزدور کی اُجرت رکھ لی تھی
ستم دیکھو، الم دیکھو، مگر کتنا ہے دم دیکھو
کہ بازو کٹ گئے ہیں پھر بھی تھاما ہے علَم دیکھو
نہیں بادِ صبا کی کوئی سرگوشی بھی گلشن میں
فضا میں حبس ہے اتنا کلی کی آنکھ نم دیکھو
طرب کی محفلیں ہیں تو کہیں ماتم بھی ہے برپا
یہ فطرت کا تقاضہ ہے خوشی کے ساتھ غم دیکھو
جدائی نے تِری بے چین سا پھر رات بھر رکھا
خیالوں میں تِری بانہوں کے تکیے پہ جو سر رکھا
بہت تنہا سی لگتی تھی تِرے جانے سے محفل تو
میں بھی یہ سوچ کر اٹھا کیا ہے اب ادھر رکھا
مکاں تو بن گیا لیکن نہ جو تم رہ سکے اس میں
ابھی تک اس لیے اس کا نہیں ہے نام گھر رکھا
جفا کار سے میں وفا چاہتا ہوں
'مِری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں'
جلایا ہے اب کے جو گھر میں نے اپنا
تو ظلمت میں تھوڑی ضیا چاہتا ہوں
جو کہتے ہو کاٹوں تِرا ہجر یونہی
تو تیشہ بھی فرہاد سا چاہتا ہوں
طاقت کا ہے غرور جنوں ہے خمار ہے
ایسے ہی آدمی کے مقدّر میں ہار ہے
ہے دیس میرا گرچہ خزاں کی لپیٹ میں
مٹی سے میں جُڑا ہوں، اُمیدِ بہار ہے
جذبات سے جو کھیلے کسی وضعدار کے
بدبخت نامراد سزاوارِ دار ہے
جو ہم پہ چھائی شامِ غریباں ہے مستقل
اس کی سحر نہ ہو گی، ہمیں مار دیجیۓ
تینوں ہی ناتواں ہیں، پہاڑوں سی زندگی
ہم سے بسر نہ ہو گی، ہمیں مار دیجیۓ
دو چار دن کا چرچا رہے گا اور اس کے بعد
کوئی خبر نہ ہو گی، ہمیں مار دیجیۓ
زخم سارے خوں اگلتے رہ گئے تھے
چارہ گر کے سب ہی حیلے رہ گئے تھے
آ گیا وہ دشمنِ جاں غیر کے ساتھ
ناتواں دل پر یہ حملے رہ گئے تھے
کون ہو جی تم نہیں پہچانا ہم نے
سننے کو بس یہ ہی جملے رہ گئے تھے
غم کی ملی جو عشق میں جاگیر دیکھ کر
خوابوں کو نوچ ڈالو گے تعبیر دیکھ کر
مجھ سے کہا طبیب نے تم لاعلاج ہو
آنکھوں میں ہجر یار کی تاثیر دیکھ کر
حالت بگڑ گئی ہے دلِ بے قرار کی
کُنجِ قفس میں وحشتِ نخچیر دیکھ کر
گلشن میں انتشار کا قائل نہیں ہوں میں
ایسی کسی بہار کا قائل نہیں ہوں میں
ترجیح دوں گا موت کو میں پیاس کے سبب
ساقی مگر ادھار کا قائل نہیں ہوں میں
اٹھ جائے حشر میرے لہو میں تو بات ہے
معمول کے فشار کا قائل نہیں ہوں میں