ستم دیکھو، الم دیکھو، مگر کتنا ہے دم دیکھو
کہ بازو کٹ گئے ہیں پھر بھی تھاما ہے علَم دیکھو
نہیں بادِ صبا کی کوئی سرگوشی بھی گلشن میں
فضا میں حبس ہے اتنا کلی کی آنکھ نم دیکھو
طرب کی محفلیں ہیں تو کہیں ماتم بھی ہے برپا
یہ فطرت کا تقاضہ ہے خوشی کے ساتھ غم دیکھو
نہ پوچھو راستہ مجھ سے نہ منزل کا نشاں پوچھو
مجھے گر ڈھونڈنا ہے تو مِرے نقشِ قدم دیکھو
مجھے دیکھا تو نظروں میں بہت ہی اجنبیّت تھی
ذرا محبوب کے یارو! یہ اندازِ ستم دیکھو
بہت عُجلت میں لگتے ہو مگر کچھ کہنے سے پہلے
شکستہ دل مِرا دیکھو، مِری آنکھیں ہیں نم دیکھو
مِرے زنداں کے پہلو میں ہے اک دریا روانی میں
زمانوں سے ہوں پیاسا میں زمانے کا کرم دیکھو
چلو چھوڑو بھی اب قصے گلابوں کے گھٹاؤں کے
تم ان کے عارض و گیسو کے رنگ و پیچ و خم دیکھو
ذرا ٹھہرو، ابھی ساقی نہ کرنا بند مے خانہ
بہت ہی دور سے آئے بہت ہیں تشنہ ہم دیکھو
عامر شہزاد تشنہ
No comments:
Post a Comment