چلتے چلتے مر جاتے ہیں
کچھ یوں حیراں کر جاتے ہیں
مرنے میں بھی جلدی ایسی
جیسے اپنے گھر جاتے ہیں
کیسے ہیں جو مر کر خوش ہیں
ہم جیسے تو ڈر جاتے ہیں
چلتے چلتے مر جاتے ہیں
کچھ یوں حیراں کر جاتے ہیں
مرنے میں بھی جلدی ایسی
جیسے اپنے گھر جاتے ہیں
کیسے ہیں جو مر کر خوش ہیں
ہم جیسے تو ڈر جاتے ہیں
بہت زندگی سے پریشان ہیں ہم
کہ اپنی خطا پہ پشیمان ہیں ہم
ہمیں گفگتو کا سلیقہ نہیں ہے
نہ عابد نہ زاہد نہ سلطان ہیں ہم
محبت نہیں کی، مگر ہو گئی ہے
عجب دل لگی ہے کہ حیران ہیں ہم
مِرے رہبر، مِرے صاحب! تِرے کردار پر شک ہے
تِرے سارے ٹھکانوں پر، در و دیوار پر شک ہے
تِرے وعدے، تِری باتیں، تِرے شب، روز دیکھے ہیں
کہ تیری بزم میں شامل تِرے ہر یار پر شک ہے
ضمیری بے ضمیری کی ازل سے جنگ جاری ہے
کسی کی جیت پر شک ہے، کسی کی ہار پر شک ہے
بہت مجبور تھے مجبور ہیں مجبور رہتے ہیں
کہ ہم مزدور تھے مزدور ہیں مزدور رہتے ہیں
کسے سُولی چڑھانا ہو،۔ ہمارا نام آتا ہے
کہ ہم منصور تھے منصور ہیں منصور رہتے ہیں
پرندوں کی ہجرت پر، ہماری یاد آتی ہے
کہ ہم مہجور تھے مہجور ہیں مہجور رہتے ہیں
یہاں عالم، یہاں فاضل، یہاں زردار بِکتے ہیں
کہیں مفلس، کہیں امرا، کہیں نادار بکتے ہیں
یہاں پہ مصر کا بازار سجتا ہے نہ یوسف ہے
یہاں میرے قبیلے کے مگر سردار بکتے ہیں
بھروسہ ہم کریں کس پہ کہاں کب کون بکتا ہے
کہیں دربان بکتے ہیں، کہیں دربار بکتے ہیں
کہیں انصاف بکتا ہے کہیں انسان بِکتے ہیں
ہمارے ہاں مگر دونوں بہت آسان بکتے ہیں
کہیں مفتی کہیں حاکم، نہیں خوفِ خدا جن کو
کہ دونوں کے کبھی فتوے کبھی فرمان بکتے ہیں
جسے دولت، جسے طاقت، اسے انصاف ملتا ہے
یہاں کمزور طبقہ کے فقط ارمان بکتے ہیں
بخارا یا کبھی بغداد بھی ہم بیچ دیتے ہیں
محبت کے سبب ہمزاد بھی ہم بیچ دیتے ہیں
کبھی لڑ کر کہ اپنی جان دیتے ہیں وطن پر ہم
کبھی ناموس یا اجداد بھی ہم بیچ دیتے ہیں
کبھی ہم شیر بنتے ہیں کبھی گیدڑ سے ہیں کمتر
کبھی شاگرد، کبھی استاد بھی ہم بیچ دیتے ہیں
کسی کو اب کسی سے بھی شکایت ہی نہیں ہوتی
جہاں سچ بولنے کی جب اجازت ہی نہیں ہوتی
جہاں ظالم سدا آزاد رہتے ہوں عدالت سے
وہاں مظلوم ملزم کی ضمانت ہی نہیں ہوتی
جہاں انسان رہتے ہوں مگر قانون جنگل کا
وہاں انصاف کی کوئی روایت ہی نہیں ہوتی