Showing posts with label نیاز مگسی. Show all posts
Showing posts with label نیاز مگسی. Show all posts

Friday, 14 April 2023

چلتے چلتے مر جاتے ہیں

 چلتے چلتے مر جاتے ہیں

کچھ یوں حیراں کر جاتے ہیں

مرنے میں بھی جلدی ایسی

جیسے اپنے گھر جاتے ہیں

کیسے ہیں جو مر کر خوش ہیں

ہم جیسے تو ڈر جاتے ہیں

Saturday, 16 April 2022

بہت زندگی سے پریشان ہیں ہم

 بہت زندگی سے پریشان ہیں ہم

کہ اپنی خطا پہ پشیمان ہیں ہم

ہمیں گفگتو کا سلیقہ نہیں ہے

نہ عابد نہ زاہد نہ سلطان ہیں ہم

محبت نہیں کی، مگر ہو گئی ہے

عجب دل لگی ہے کہ حیران ہیں ہم

Saturday, 5 March 2022

مرے رہبر مرے صاحب ترے کردار پر شک ہے

 مِرے رہبر، مِرے صاحب! تِرے کردار پر شک ہے

تِرے سارے ٹھکانوں پر، در و دیوار پر شک ہے

تِرے وعدے، تِری باتیں، تِرے شب، روز دیکھے ہیں

کہ تیری بزم میں شامل تِرے ہر یار پر شک ہے

ضمیری بے ضمیری کی ازل سے جنگ جاری ہے

کسی کی جیت پر شک ہے، کسی کی ہار پر شک ہے

Thursday, 24 February 2022

بہت مجبور تھے مجبور ہیں مجبور رہتے ہیں

 بہت مجبور تھے مجبور ہیں مجبور رہتے ہیں

کہ ہم مزدور تھے مزدور ہیں مزدور رہتے ہیں

کسے سُولی چڑھانا ہو،۔ ہمارا نام آتا ہے

کہ ہم منصور تھے منصور ہیں منصور رہتے ہیں

پرندوں کی ہجرت پر، ہماری یاد آتی ہے

کہ ہم مہجور تھے مہجور ہیں مہجور رہتے ہیں

Thursday, 17 February 2022

یہاں عالم یہاں فاضل یہاں زردار بکتے ہیں

 یہاں عالم، یہاں فاضل، یہاں زردار بِکتے ہیں

کہیں مفلس، کہیں امرا، کہیں نادار بکتے ہیں

یہاں پہ مصر کا بازار سجتا ہے نہ یوسف ہے

یہاں میرے قبیلے کے مگر سردار بکتے ہیں

بھروسہ ہم کریں کس پہ کہاں کب کون بکتا ہے

کہیں دربان بکتے ہیں، کہیں دربار بکتے ہیں

Wednesday, 16 February 2022

کہیں انصاف بکتا ہے کہیں انسان بکتے ہیں

 کہیں انصاف بکتا ہے کہیں انسان بِکتے ہیں

ہمارے ہاں مگر دونوں بہت آسان بکتے ہیں

کہیں مفتی کہیں حاکم، نہیں خوفِ خدا جن کو

کہ دونوں کے کبھی فتوے کبھی فرمان بکتے ہیں

جسے دولت، جسے طاقت، اسے انصاف ملتا ہے

یہاں کمزور طبقہ کے فقط ارمان بکتے ہیں

Tuesday, 15 February 2022

بخارا یا کبھی بغداد بھی ہم بیچ دیتے ہیں

 بخارا یا کبھی بغداد بھی ہم بیچ دیتے ہیں

محبت کے سبب ہمزاد بھی ہم بیچ دیتے ہیں

کبھی لڑ کر کہ اپنی جان دیتے ہیں وطن پر ہم

کبھی ناموس یا اجداد بھی ہم بیچ دیتے ہیں

کبھی ہم شیر بنتے ہیں کبھی گیدڑ سے ہیں کمتر

کبھی شاگرد، کبھی استاد بھی ہم بیچ دیتے ہیں

Sunday, 3 January 2021

کسی کو اب کسی سے بھی شکایت ہی نہیں ہوتی

 کسی کو اب کسی سے بھی شکایت ہی نہیں ہوتی

جہاں سچ بولنے کی جب اجازت ہی نہیں ہوتی

جہاں ظالم سدا آزاد رہتے ہوں عدالت سے

وہاں مظلوم ملزم کی ضمانت ہی نہیں ہوتی

جہاں انسان رہتے ہوں مگر قانون جنگل کا

وہاں انصاف کی کوئی روایت ہی نہیں ہوتی