کسی کو اب کسی سے بھی شکایت ہی نہیں ہوتی
جہاں سچ بولنے کی جب اجازت ہی نہیں ہوتی
جہاں ظالم سدا آزاد رہتے ہوں عدالت سے
وہاں مظلوم ملزم کی ضمانت ہی نہیں ہوتی
جہاں انسان رہتے ہوں مگر قانون جنگل کا
وہاں انصاف کی کوئی روایت ہی نہیں ہوتی
رواجوں کی الگ بستی بسانے کی روایت میں
غریبوں پر کسی کی کچھ عنایت ہی نہیں ہوتی
درندے دندناتے ہیں ابھی ہر ایک بستی میں
یہاں اب نام کی بھی کچھ شرافت ہی نہیں ہوتی
جہاں عصمت نہ محفوظ عورت کی وہاں آغا
کبھی معصوم بچوں کی حفاظت ہی نہیں ہوتی
آغا نیاز مگسی
No comments:
Post a Comment