Showing posts with label گوہر شیخ پوروی. Show all posts
Showing posts with label گوہر شیخ پوروی. Show all posts

Wednesday, 29 July 2026

ہم آج بہت ان کو خفا دیکھ رہے ہیں

 ہم آج بہت ان کو خفا دیکھ رہے ہیں

اے شوخیٔ تقدیر یہ کیا دیکھ رہے ہیں

یہ آپ کی پُرسش کا ملا ہے ہمیں انعام

کچھ درد محبت کو سوا دیکھ رہے ہیں

پہچان میں آتے نہیں پہچانے ہوئے لوگ

بدلی ہوئی دنیا کی ہوا دیکھ رہے ہیں

Saturday, 3 January 2026

خوشی تلاش نہ کر آدمی کے چہرے پر

 خوشی تلاش نہ کر آدمی کے چہرے پر

اداسیاں ہیں بہت زندگی کے چہرے پر

نہ جانے کس کی نظر کھا گئی سکونِ نظر

کہ اضطراب سا ہے اب خوشی کے چہرے پر

اندھیری رات میں جینے کے لوگ عادی ہیں

نقاب ڈال دو خود روشنی کے چہرے پر

Friday, 3 October 2025

خلوص اور محبت یہاں روا ہی نہیں

 خلوص اور محبت یہاں روا ہی نہیں

کہ ایسے لفظوں سے اب لوگ آشنا ہی نہیں

بوقتِ مرگ خدا یاد آ گیا اس کو

جو کہہ رہا تھا کسی کا کوئی خدا ہی نہیں

جو بے گناہ تھا وہ زینتِ صلیب ہوا

گناہ گار کی خاطر کوئی سزا ہی نہیں

Thursday, 2 October 2025

روز دل کو مرے اک زخم نیا دیتے ہیں

 روز دل کو مِرے اک زخم نیا دیتے ہیں

آپ کیا اپنا بنانے کی سزا دیتے ہیں

میری بیتابیٔ دل کا جو اڑاتے ہیں مذاق

وہ بھڑکتے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں

لوگ کہتے ہیں جسے ظرف وہ اپنا ہے مزاج

اپنے دشمن سے بھی ہم پیار جتا دیتے ہیں

Sunday, 27 March 2022

دنیا کی جو خوشی تھی وہ غم سے بدل گئی

دنیا کی جو خوشی تھی وہ غم سے بدل گئی

شاید حیات عشق کے سانچے میں ڈھل گئی

دنیا پھری پھری ہے تمہاری نظر کے ساتھ

تم کیا بدل گئے کہ خدائی بدل گئی

رخ بجلیوں نے موڑ لیا سوئے آشیاں

آئی ہوئی بلا مِرے گلشن سے ٹل گئی