ہم آج بہت ان کو خفا دیکھ رہے ہیں
اے شوخیٔ تقدیر یہ کیا دیکھ رہے ہیں
یہ آپ کی پُرسش کا ملا ہے ہمیں انعام
کچھ درد محبت کو سوا دیکھ رہے ہیں
پہچان میں آتے نہیں پہچانے ہوئے لوگ
بدلی ہوئی دنیا کی ہوا دیکھ رہے ہیں
ہم آج بہت ان کو خفا دیکھ رہے ہیں
اے شوخیٔ تقدیر یہ کیا دیکھ رہے ہیں
یہ آپ کی پُرسش کا ملا ہے ہمیں انعام
کچھ درد محبت کو سوا دیکھ رہے ہیں
پہچان میں آتے نہیں پہچانے ہوئے لوگ
بدلی ہوئی دنیا کی ہوا دیکھ رہے ہیں
خوشی تلاش نہ کر آدمی کے چہرے پر
اداسیاں ہیں بہت زندگی کے چہرے پر
نہ جانے کس کی نظر کھا گئی سکونِ نظر
کہ اضطراب سا ہے اب خوشی کے چہرے پر
اندھیری رات میں جینے کے لوگ عادی ہیں
نقاب ڈال دو خود روشنی کے چہرے پر
خلوص اور محبت یہاں روا ہی نہیں
کہ ایسے لفظوں سے اب لوگ آشنا ہی نہیں
بوقتِ مرگ خدا یاد آ گیا اس کو
جو کہہ رہا تھا کسی کا کوئی خدا ہی نہیں
جو بے گناہ تھا وہ زینتِ صلیب ہوا
گناہ گار کی خاطر کوئی سزا ہی نہیں
روز دل کو مِرے اک زخم نیا دیتے ہیں
آپ کیا اپنا بنانے کی سزا دیتے ہیں
میری بیتابیٔ دل کا جو اڑاتے ہیں مذاق
وہ بھڑکتے ہوئے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں
لوگ کہتے ہیں جسے ظرف وہ اپنا ہے مزاج
اپنے دشمن سے بھی ہم پیار جتا دیتے ہیں
دنیا کی جو خوشی تھی وہ غم سے بدل گئی
شاید حیات عشق کے سانچے میں ڈھل گئی
دنیا پھری پھری ہے تمہاری نظر کے ساتھ
تم کیا بدل گئے کہ خدائی بدل گئی
رخ بجلیوں نے موڑ لیا سوئے آشیاں
آئی ہوئی بلا مِرے گلشن سے ٹل گئی