کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات
مت لائیو زباں پہ مگر آرزو کی بات
مقدور بھی یہی ہے کہ پردے پڑے رہیں
اپنی کہاں بساط کریں رو بہ رو کی بات
دیکھیں گے پھر سے بزم میں جلوہ نما اسے
سنتے رہیں گے بیٹھ کے اس ماہ رو کی بات
کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات
مت لائیو زباں پہ مگر آرزو کی بات
مقدور بھی یہی ہے کہ پردے پڑے رہیں
اپنی کہاں بساط کریں رو بہ رو کی بات
دیکھیں گے پھر سے بزم میں جلوہ نما اسے
سنتے رہیں گے بیٹھ کے اس ماہ رو کی بات
یقیں تو پھر یقیں رہا گماں کا کیا گماں گیا
حدودِ دو جہاں کو تج حضورِ لا مکاں گیا
اٹھی نقابِ رخ اُدھر، اِدھر سے شور اٹھا کہ دل
ابھی ابھی یہیں تو تھا کہاں گیا کہاں گیا
جدارِ کعبۂ یقیں میں پھر دراڑ آئے گی
بس اس امیدِ ناز میں یہ دل کشاں کشاں گیا
بتائیں کس طرح اے دل کسے دیکھا کہاں دیکھا
وہی جلوہ نما جس طرف دیکھا جہاں دیکھا
کوئی پوچھے نبیؐ سے کیا شہ کون و مکاں دیکھا
پس پردہ تھا کیا اور کیا سر پردہ وہاں دیکھا
کہیں گے جان جاں نے جلوہ جانانِ جاں دیکھا
اٹھا پردہ تو دستِ حضرت حیدرؑ عیاں دیکھا
اس میں کیا جُرم کیا خطا صاحب
دل تو ٹھہرا ہی بے وفا صاحب
پھر کسی دوسرے کا سجدہ ہو
پھر نیا ہو کوئی خُدا صاحب
جو ہمیں یاد ہی نہیں تھے کبھی
کیا بھلا ان کو بھُولنا صاحب