Showing posts with label فراز رضوی. Show all posts
Showing posts with label فراز رضوی. Show all posts

Saturday, 19 September 2026

کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات

 کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات

مت لائیو زباں پہ مگر آرزو کی بات 

مقدور بھی یہی ہے کہ پردے پڑے رہیں 

اپنی کہاں بساط کریں رو بہ رو کی بات

دیکھیں گے پھر سے بزم میں جلوہ نما اسے

سنتے رہیں گے بیٹھ کے اس ماہ رو کی بات

Friday, 18 September 2026

یقیں تو پھر یقیں رہا گماں کا کیا گماں گیا

 یقیں تو پھر یقیں رہا گماں کا کیا گماں گیا

حدودِ دو جہاں کو تج حضورِ لا مکاں گیا

اٹھی نقابِ رخ اُدھر، اِدھر سے شور اٹھا کہ دل

ابھی ابھی یہیں تو تھا کہاں گیا کہاں گیا

جدارِ کعبۂ یقیں میں پھر دراڑ آئے گی

بس اس امیدِ ناز میں یہ دل کشاں کشاں گیا

Thursday, 17 September 2026

بتائیں کس طرح اے دل کسے دیکھا کہاں دیکھا

 بتائیں کس طرح اے دل کسے دیکھا کہاں دیکھا

وہی جلوہ نما جس طرف دیکھا جہاں دیکھا 

کوئی پوچھے نبیؐ سے کیا شہ کون و مکاں دیکھا

پس پردہ تھا کیا اور کیا سر پردہ وہاں دیکھا 

کہیں گے جان جاں نے جلوہ جانانِ جاں دیکھا

اٹھا پردہ تو دستِ حضرت حیدرؑ عیاں دیکھا 

Tuesday, 15 July 2025

اس میں کیا جرم کیا خطا صاحب

اس میں کیا جُرم کیا خطا صاحب

دل تو ٹھہرا ہی بے وفا صاحب

پھر کسی دوسرے کا سجدہ ہو

پھر نیا ہو کوئی خُدا صاحب

جو ہمیں یاد ہی نہیں تھے کبھی

کیا بھلا ان کو بھُولنا صاحب