آئینہ دیکھتا ہوں نظر آ رہے ہو تم
کتنے قریب مجھ سے ہوئے جا رہے ہو تم
یہ کیا فریب ہے کہ جو فرما رہے ہو تم
میں خود کو ڈھونڈتا ہوں، ملے جا رہے ہو تم
تم کو یہ پیچ و تاب کی مشکل ہے میری راہ
مجھ کو یہ اضطراب کہ گھبرا رہے ہو تم
آئینہ دیکھتا ہوں نظر آ رہے ہو تم
کتنے قریب مجھ سے ہوئے جا رہے ہو تم
یہ کیا فریب ہے کہ جو فرما رہے ہو تم
میں خود کو ڈھونڈتا ہوں، ملے جا رہے ہو تم
تم کو یہ پیچ و تاب کی مشکل ہے میری راہ
مجھ کو یہ اضطراب کہ گھبرا رہے ہو تم
حسن بھی ہے پناہ میں عشق بھی ہے پناہ میں
اک تِری نگاہ میں، اک مِری نگاہ میں
کھیل نہیں ہنسی نہیں حال میرا سن نہ سن
درد ہے دو جہان کا عشق کی ایک آہ میں
خوگرِ ظلم و جور کو شکوۂ التفات ہے
قلب سے اٹھ کے چھا گئی غم کی گھٹا نگاہ میں
ہے اتنا ہی اب واسطہ زندگی سے
کی میں جی رہا ہوں تمہاری خوشی سے
غریبی امیری ہے قسمت کا سودا
ملو آدمی کی طرح آدمی سے
بدل جائے گر بے قراروں کی دنیا
تو میں اپنی دنیا لٹا دوں خوشی سے
حیرت کے دل پہ وار کِیا، ہائے کیا کِیا
خود کو بھی بے قرار کیا، ہائے کیا کیا
مجھ کو نہ تھا خود اپنی نگاہوں پہ اعتبار
اور اس نے اعتبار کیا، ہائے کیا کیا
جتنا ہی میں خراب ہوا، ناتواں ہوا
اتنا ہی اس نے پیار کیا، ہائے کیا کیا