Saturday, 25 July 2026

بد بلا ہے یہ بد بلا ہے عشق

 بد بلا ہے یہ بد بلا ہے عشق

پری خانم! بہت برا ہے عشق

حسن دریا ہے اے بوا خضرو

دل کی کشتی کا ناخدا ہے عشق

اے عزیز! دن پڑھا زلیخا نے

دل ہی یوسف تو بھیڑیا ہے عشق

پھر وہ اترا نہ اے پری خانم

جس کے سر پر اری چڑھا ہے عشق

اس کو پروا نہیں کوئی مر جائے

اے بے درد یہ ہوا ہے عشق

جان صاحب ہے جان کا دشمن

دل کو پوچھو تو آشنا ہے عشق


میر یار علی جان

No comments:

Post a Comment