سب بدلتا ہے
بس انسان نہیں بدلتا
لوگ بدلتے ہیں
آنکھیں بدلتی ہیں
اُمید بدلتی ہے
رُخ بدلتے ہیں
کعبے بدلتے ہیں
دکھاوے بدلتے ہیں
سوچ بدلتی ہے
فاصلے بدلتے ہیں
کھیل بدلتے ہیں
رنگ بدلتے ہیں
تہوار بدلتے ہیں
پہچان بدلتی ہیں
دل بدلتے ہیں
اُستاد بدلتے ہیں
پِیر بدلتے ہیں
مذہب بدلتے ہیں
شوق بدلتے ہیں
ارادے بدلتے ہیں
موسم بدلتے ہیں
احساس بدلتے ہیں
دھندے بدلتے ہیں
علم بدلتے ہیں
نیتیں بدلتی ہیں
صُورت بدلتی ہے
صُورتِ حال بدلتی ہے
دوست بدلتے ہیں
دُشمن بدلتے ہیں
یار بدلتے ہیں
بچے بدلتے ہیں
شوہر بدلتے ہیں
بیویاں بدلتی ہیں
محبوب بدلتے ہیں
میں بدلتی ہے
سرکار بدلتے ہیں
زمانے بدلتے ہیں
اشارے بدلتے ہیں
زبان بدلتی ہے
لفظ بدلتے ہیں
معنے بدلتے ہیں
نصاب بدلتے ہیں
لحاظ بدلتے ہیں
اپنے بدلتے ہیں
کپڑے بدلتے ہیں
جسم بدلتے ہیں
ذائقے بدلتے ہیں
خواہشات بدلتی ہیں
سنگھار بدلتے ہیں
نگاہیں بدلتی ہیں
گھر گلیاں محلے بدلتے ہیں
ہمسائے بدلتے ہیں
معیار بدلتے ہیں
پیار بدلتے ہیں
ذمہ داریاں بدلتی ہیں
درد بدلتے ہیں
داستان بدلتی ہے
امام بدلتے ہیں
کتابیں بدلتی ہیں
کہانیاں بدلتی ہیں
مزاج بدلتے ہیں
فن بدلتے ہیں
فنکار بدلتے ہیں
گُنہگار بدلتے ہیں
شاہکار بدلتے ہیں
دلدار بدلتے ہیں
وفادار بدلتے ہیں
رشتے بدلتے ہیں
گواہ بدلتے ہیں
فیصلے بدلتے ہیں
سزائیں بدلتی ہیں
سچ بدلتا ہے
تاریخ بدلتی ہے
ہندسے بدلتے ہیں
قسمت بدلتی ہے
سال اور مہینے بدلتے ہیں
وقت بدلتا ہے
کچھ ہم بدلتے ہیں
کبھی وہ بدلتے ہیں
اور لمحہ رہ جاتا ہے
پر انسان نہیں بدلتا
انسان سُرِ خدا سدا سے ہے
اور سدا رہے گا
سُر ایک ساز بے شمار
یوسف بشیر قریشی
No comments:
Post a Comment