Monday, 13 July 2026

گریہ کرتا ہے کبھی چپ کبھی ہنستا ہے وہی

 گریہ کرتا ہے کبھی چپ کبھی ہنستا ہے وہی

میری وحشت مری حیرت کو سمجھتا ہے وہی

کبھی خوشبو کبھی بادل کبھی موج دریا

میرے اشعار میں سو رنگ بدلتا ہے وہی

کوئی گزرا تھا دبے پاؤں جہاں سے اک دن

راستہ خواب کی دہلیز سے ملتا ہے وہی

دن کے ہنگاموں میں سورج سے رفاقت اس کی

رات پھر چاند ستاروں سے الجھتا ہے وہی

خود شناسی جسے تفویض ہوئی ہے اسلم

ٹھوکریں کھاتا ہے گرتا ہے سنبھلتا ہے وہی


اسلم بیگ مرزا

No comments:

Post a Comment