اُکتا گئی ہے رُوح، فریبِ حیات سے
پرواز چاہتی ہے، اب اِس کائنات سے
بے رنگ ہو چکی مِری ہر ایک آرزو
بڑھ کر ہے درد میرا سبھی معجزات سے
بُجھنے کو ہے چراغ اُمیدوں کے شہر کا
دل کو بھی کوئی ربط نہیں واردات سے
بیکار ہو گئی ہے یہاں رسم و راہ بھی
نفرت سی ہو گئی مجھے ہر اِلتفات سے
تکمیلِ آرزو بھی تو ہونے نہ پائے گی
ہونا ہے رُوبرُو ابھی کچھ حادثات سے
جُنبش لبوں کو دے کے خموشی میں توڑ دوں
آئے گی پھر نِکل کے کوئی بات، بات سے
ہِجر و وصال کچھ نہیں الطاف! کچھ نہیں
کر کے تو دیکھ عشق کبھی اپنی ذات سے
الطاف زرگر
No comments:
Post a Comment