عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
انؐ کی چمک سے چمکا چہرہ اصُول کا
آنکھوں کی روشنی بھی صدقہ رسولؐ کا
حسن صدائے سرور تیری تلاش میں
حبشی کو مِل گیا ہے لہجہ قبول کا
جبریلؑ کون ہے جو رفتار جان لے
سایا نہ پا سکا وہ قدموں کی دُھول کا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
انؐ کی چمک سے چمکا چہرہ اصُول کا
آنکھوں کی روشنی بھی صدقہ رسولؐ کا
حسن صدائے سرور تیری تلاش میں
حبشی کو مِل گیا ہے لہجہ قبول کا
جبریلؑ کون ہے جو رفتار جان لے
سایا نہ پا سکا وہ قدموں کی دُھول کا
واجب الاحترام ہوتے ہیں
چند ایسے بھی نام ہوتے ہیں
دوستوں کی زبان چلتی ہے
دشمنوں سے کلام ہوتے ہیں
اک ریاست کا نام لو جس میں
چور، عالی مقام ہوتے ہیں
دنیا نے نچایا ہے، سبھی ناچ رہے ہیں
ناچے ہیں گداگر بھی، سخی ناچ رہے ہیں
دانش بھی دریچے میں کھڑی جھوم رہی ہے
پاؤں میں پڑی دیدہ وری، ناچ رہے ہیں
باندھے ہیں یہ گھنگرو تو کوئی راز ہے اس میں
دم لیں گے بتائیں گے، ابھی ناچ رہے ہیں
وہم کا ورد بتایا ہے گماں لکھا ہے
میرا کردار کہانی میں کہاں لکھا یے
پانچ حرفوں کی ارادت کو محبت جانا
چارگھڑیوں کی سکونت کو مکاں لکھا ہے
خامشی میری روایت میں وظیفہ ٹھہری
میں نے ہر سانس کو فطرت کی زبان لکھا ہے
ہم ہی بدلیں گے رہ و رسم گلستاں یارو
ہم سے وابستہ ہے تعمیر بہاراں یارو
قربت کاکل و رخسار سے جی تنگ نہیں
اک ذرا چین تو دے گردش دوراں یارو
لاکھ ہم مرحلۂ دار و رسن سے گزرے
زندگی سے نہ ہوئے پھر بھی گریزاں یارو
کیا کیا محبتوں کے زمانے بدل گئے
اب تم کبھی ملے ہو تو آنسو نکل گئے
فرطِ غمِ حوادثِ دوراں کے باوجود
جب بھی تِرے دیار سے گزرے مچل گئے
میں نکتہ چیں نہیں ہوں، مگر یہ بتائیے
وہ کون تھے جو ہنس کے گُلوں کو مسل گئے
زندگی غم کی آنچ سہہ کوئی
یوں جلی یوں بجھی کہ دھول ہوئی
ہم نے بھی جشن گل کو دیکھا تھا
آج تک سوچتے ہیں بھول ہوئی
کیا کریں اپنی اس طبیعت کو
آپ سے مل کے بھی ملول ہوئی
بہ وصفِ شوق بھی دل کا کہا نہیں کرتے
فروغِ قامت و رخ کی ثنا نہیں کرتے
شکستِ عہدِ ستم پر یقین رکھتے ہیں
ہم انتہائے ستم کا گلا نہیں کرتے
کچھ اس طرح سے لٹی ہے متاعِ دیدہ و دل
کہ اب کسی سے بھی ذکرِ وفا نہیں کرتے