Showing posts with label احمد ریاض. Show all posts
Showing posts with label احمد ریاض. Show all posts

Thursday, 15 October 2026

ان کی چمک سے چمکا چہرہ اصول کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


انؐ کی چمک سے چمکا چہرہ اصُول کا

آنکھوں کی روشنی بھی صدقہ رسولؐ کا

حسن صدائے سرور تیری تلاش میں

حبشی کو مِل گیا ہے لہجہ قبول کا

جبریلؑ کون ہے جو رفتار جان لے

سایا نہ پا سکا وہ قدموں کی دُھول کا

Wednesday, 19 August 2026

واجب الاحترام ہوتے ہیں

 واجب الاحترام ہوتے ہیں

چند ایسے بھی نام ہوتے ہیں

دوستوں کی زبان چلتی ہے

دشمنوں سے کلام ہوتے ہیں

اک ریاست کا نام لو جس میں

چور، عالی مقام ہوتے ہیں

Thursday, 23 April 2026

دنیا نے نچایا ہے سبھی ناچ رہے ہیں

 دنیا نے نچایا ہے، سبھی ناچ رہے ہیں

ناچے ہیں گداگر بھی، سخی ناچ رہے ہیں

دانش بھی دریچے میں کھڑی جھوم رہی ہے

پاؤں میں پڑی دیدہ وری، ناچ رہے ہیں

باندھے ہیں یہ گھنگرو تو کوئی راز ہے اس میں

دم لیں گے بتائیں گے، ابھی ناچ رہے ہیں

Sunday, 21 July 2024

وہم کا ورد بتایا ہے گماں لکھا ہے

 وہم کا ورد بتایا ہے گماں لکھا ہے

میرا کردار کہانی میں کہاں لکھا یے

پانچ حرفوں کی ارادت کو محبت جانا

چارگھڑیوں کی سکونت کو مکاں لکھا ہے

خامشی میری روایت میں وظیفہ ٹھہری

میں نے ہر سانس کو فطرت کی زبان لکھا ہے

Friday, 21 May 2021

ہم ہی بدلیں گے رہ و رسم گلستاں یارو

 ہم ہی بدلیں گے رہ و رسم گلستاں یارو

ہم سے وابستہ ہے تعمیر بہاراں یارو

قربت کاکل و رخسار سے جی تنگ نہیں

اک ذرا چین تو دے گردش دوراں یارو

لاکھ ہم مرحلۂ دار و رسن سے گزرے

زندگی سے نہ ہوئے پھر بھی گریزاں یارو

Thursday, 20 May 2021

کیا کیا محبتوں کے زمانے بدل گئے

 کیا کیا محبتوں کے زمانے بدل گئے

اب تم کبھی ملے ہو تو آنسو نکل گئے

فرطِ غمِ حوادثِ دوراں کے باوجود

جب بھی تِرے دیار سے گزرے مچل گئے

میں نکتہ چیں نہیں ہوں، مگر یہ بتائیے

وہ کون تھے جو ہنس کے گُلوں کو مسل گئے

زندگی غم کی آنچ سہہ کوئی

 زندگی غم کی آنچ سہہ کوئی

یوں جلی یوں بجھی کہ دھول ہوئی

ہم نے بھی جشن گل کو دیکھا تھا

آج تک سوچتے ہیں بھول ہوئی

کیا کریں اپنی اس طبیعت کو

آپ سے مل کے بھی ملول ہوئی

Saturday, 28 November 2020

بہ وصف شوق بھی دل کا کہا نہیں کرتے

 بہ وصفِ شوق بھی دل کا کہا نہیں کرتے

فروغِ قامت و رخ کی ثنا نہیں کرتے

شکستِ عہدِ ستم پر یقین رکھتے ہیں

ہم انتہائے ستم کا گلا نہیں کرتے

کچھ اس طرح سے لٹی ہے متاعِ دیدہ و دل

کہ اب کسی سے بھی ذکرِ وفا نہیں کرتے