Thursday, 23 April 2026

دنیا نے نچایا ہے سبھی ناچ رہے ہیں

 دنیا نے نچایا ہے، سبھی ناچ رہے ہیں

ناچے ہیں گداگر بھی، سخی ناچ رہے ہیں

دانش بھی دریچے میں کھڑی جھوم رہی ہے

پاؤں میں پڑی دیدہ وری، ناچ رہے ہیں

باندھے ہیں یہ گھنگرو تو کوئی راز ہے اس میں

دم لیں گے بتائیں گے، ابھی ناچ رہے ہیں

ہر عہد کی سازش نے جنہیں ساتھ۔ ملایا

ہر دور کی ذِلت میں وہی ناچ رہے ہیں

تاریخ میں لکھی ہے یہی عام روایت

تقدیر نچاتی ہے، تبھی ناچ رہے ہیں

دیکھا ہے یہاں ہم نے، کئی لوگ ہمارے

بیٹھے ہیں کبھی چپ تو کبھی ناچ رہے ہیں

ہوتی ہے پتنگوں میں یہی بات مزے کی

جب تک بھی کہیں شمع جلی، ناچ رہے ہیں


احمد ریاض

No comments:

Post a Comment