کسی کے عشق کِسی کے گمان میں رہ کر
زمیں کو بھول گیا آسمان میں رہ کر
ابھی ہے وقت کے ہم اپنا فیصلہ کر لیں
بہت خسارے کیے درمیان میں رہ کر
کے ہم وہ تیر ہیں مقصد سے ہٹ نہیں سکتے
نشانہ سادھتے ہیں ہم کمان میں رہ کر
وہی پہاڑی حيا آ گئی ہے چہرے پر
مہک اٹھا ہے بدن زعفران میں رہ کر
اب ان کے جسم کو تازہ ہوا کی ہے درکار
مربّے سڑنے لگے مرتبان میں رہ کر
جاوید قسیم
محمد جاوید قریشی
No comments:
Post a Comment