Monday, 13 April 2026

مجھ دکھ کی خبر لینے وہ غمخوار نہ آیا

 فریاد کہ وہ شوخ ستمگار نہ آیا

مجھ قتل کوں لے ہاتھ میں تلوار نہ آیا

میں پنبہ نمن نرم کیا بستر تن کوں

وہ پیو قدم دھرنے کو یکبار نہ آیا

چھٹ آہ پچھے کون مِرے درد کا احوال

مجھ دکھ کی خبر لینے وہ غمخوار نہ آیا

جانے ہے وفادار مجھے دل منے لیکن

دہشت سے رقیباں کی وہ ناچار نہ آیا

آرام گیا بھوک نہیں نیند گئی بھول

افسوس کہ وہ طالع بیدار نہ آیا

بلبل کی نمن آس ہے نِت باس کی مجھ کوں

صد حیف مِرے پاس وہ گُلزار نہ آیا

بازار سخن گرم کیا اوس کی صفت سوں

مجھ شعر کا ہیہات خریدار نہ آیا

لکھ بار سہا باغ میں مالی کا تہورا

پر سیر کتیں وہ گُل بے خار نہ آیا

اے مبتلا! یہ بات لکھا دل کے اوپر میں

اک روز مجھ آغوش میں وہ یار نہ آیا


عبیداللہ خاں مبتلا

No comments:

Post a Comment