Wednesday, 29 April 2026

چھو نہیں پاتے بڑھا کر ہاتھ اس کو

 چھو نہیں پاتے بڑھا کر ہاتھ اس کو

مانگ لیں گے ہم اٹھا کر ہاتھ اس کو

ہم گلے ملتے تو جا پاتا نہیں وہ

کر دیا رخصت ہلا کر ہاتھ اس کو

ساتھ کی عادت نہیں وہ مر نہ جائے

چھوڑ دو تم بھی ملا کر ہاتھ اس کو

عشق کے دریا کو ہم درکار تھے سو

دے دیا خود کو گرا کر ہاتھ اس کو


رچی درولیہ

No comments:

Post a Comment