Wednesday, 15 April 2026

لطف آ گیا ہے آپ سے گفت و شنید کا

 اپنی جگہ پہ حسن کمالاتِ دید کا

لطف آ گیا ہے آپ سے گفت و شنید کا

پاؤں میں گھنگرو باندھ کے رقصاں بروئے یار

انعام پا رہا ہوں میں یوم سعید کا

آتے ہیں یار دعوتِ بزمِ شیراز میں

کب دیکھتے ہیں فرق قریب و بعید کا

اس کو امیرِ شہر بنایا ہے وقت نے

لونڈا تھا اک جو داشتۂ زر خرید کا

روشن خیال یہ تو، روایت پسند وہ

دونوں کی جنگ تحفہ ہے دورِ جدید کا

رنج و الم کے دور میں دنیا کو بے طرح

آتا ہے یاد آج پیامی نوید کا

بنتِ غریب شہر تمنا کرے تو کیا

مشکل ہوا خریدنا زیور حدید کا

بیٹھے رہو یوں سامنے، تھم جائے وقت آج

آئے کہ پھر نہ آئے صدف دن یہ عید کا


عبدالرزاق صدف

No comments:

Post a Comment