Tuesday, 14 April 2026

چلو پھر سے ماضی کے سفر پر چلیں ہم

 چلو پھر سے

ماضی کے سفر پر چلیں ہم

حال میں ہیں صرف غم ہی غم

صبح بے نُور ہے

شام مجبُور ہے

مسرتیں کھو گئیں کہیں

دلکشی اب باقی نہیں

خُوبصورت نظارے سبھی کھو گئے

ہر لمحہ مغموم سے ہو گئے

کھو گئے سبھی جگنو سفر کے

سُورج مدھم ہو گئے شہر کے

اب تو صرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے

جِدھر دیکھو موت کا ہی سایہ ہے


شیبا کوثر

No comments:

Post a Comment