Thursday, 16 April 2026

قطروں کو یہ ضد ہے کہ وہ یم ہو کے رہیں گے

 گو اور بھی غم شامل غم ہو کے رہیں گے

ہم فاتح ہر رنج و الم ہو کے رہیں گے

بیباکئ تحریر یہ دستورِ خدا وند

اک روز مِرے ہاتھ قلم ہو کے رہیں گے

اے مرد سخن جرم سخن خوب ہیں لیکن

یہ جرم تِرے خوں سے رقم ہو کے رہیں گے

کعبے سے نکالے ہوئے بت پوجنے والو

کیا پھر یہ شناسائے حرم ہو کے رہیں گے

کہتے ہیں کہ ہر قطرۂ طوفاں کو دبا دو

قطروں کو یہ ضد ہے کہ وہ یم ہو کے رہیں گے


طفیل دارا

No comments:

Post a Comment