بوجھ ہستی کا ہمیں ڈھونے دیا جاتا ہے
بے سبب ہونا اگر ہونے دیا جاتا ہے
راستے بچھتے چلے جاتے ہیں رہرو کے لیے
سونے والوں کو بہت سونے دیا جاتا ہے
میری وحشت کی ہے توقیر بہت بستی میں
دربدر خاک بسر ہونے دیا جاتا ہے
ہنسنے والوں کو بھی دو چار گھڑی ہنسنے دیں
رونے والوں کو اگر رونے دیا جاتا ہے
کیوں یہ لازم ہے کہ آلودہ نہ ہو بارِ دِگر
دامن اِک بار اگر دھونے دیا جاتا ہے
کچھ چُھپا رکھا ہے اِس دل کے نہاں خانے میں
دُرِشہوار کبھی کھونے دیا جاتا ہے
واحد سراج
No comments:
Post a Comment