چھپا کے روئے حسیں کو سیاہ بالوں میں
فریب دے گیا آ کر کوئی خیالوں میں
وفا کے ذکر چھڑا جب پری جمالوں میں
تو میرا نام بھی آیا کئی مثالوں میں
مٹانے والے مٹاتے رہے مجھے لیکن
غزل کے روپ میں زندہ رہا رسالوں میں
جواب بن گئی خود ان کے لب کی خاموشی
الجھ گئے وہ کچھ ایسا مِرے سوالوں میں
محافظانِ چمن نے چمن کو لوٹ لیا
مثال اس کی نہ ہو گی کہیں مثالوں میں
گُلوں کا قتل ہوا کچھ اس طرح سے پیام
بہار روئی ہے منہ کو چھپا کے ڈالوں میں
پیام سیہالوی
محمد شفیق
No comments:
Post a Comment