گِرا ہے بے خودی میں شمع پر پروانہ کہتے ہیں
ہم اس وارفتگی کو ذوق سے بیگانہ کہتے ہیں
بیاں کب کوئی اپنے عشق کی روداد کرتا ہے
مگر ہم اپنا قصّہ آج بے تابانہ کہتے ہیں
نہیں واقف کہ یہ گنجینۂ غم ہائے الفت ہے
مِرے مسکن کو میرے ہمنشیں ویرانہ کہتے ہیں
وہ مے اچھی، بڑھا دیتی ہے جو کیفِ محبت کو
جسے پیتے ہی ہوش آئے، اسے پیمانہ کہتے ہیں
کبھی ہونے بھی دے تو آزمائش مے پرستی کی
تِرے میکش تو آنکھوں کو تِری میخانہ کہتے ہیں
محبت میں تڑپنے کا مزا عشاق سے پوچھو
یہی جذبہ ہے جس کو لغزشِ مستانہ کہتے ہیں
ظفر ہاشمی
No comments:
Post a Comment