کوئی مقتول جفا ہو جیسے
یعنی تصویر وفا ہو جیسے
بارہا یوں بھی ہوا ہے محسوس
کوئی مجھ میں ہی چھپا ہو جیسے
کتنا مستغنیٔ درماں ہے یہ
درد خود اپنی دوا ہو جیسے
یوں شب و روز گزارے تجھ بن
وقت سولی پہ کٹا ہو جیسے
بات بے بات خفا ہو جانا
یہ بھی اس اس کی ادا ہو جیسے
اس طرح کھیل رہا ہے ہر شخص
زندگی ایک جوا ہو جیسے
دل مرحوم کا ماتم تو نہیں
ایک محشر سا بپا ہو جیسے
چشمک برق ترا کیا کہنا
اسی کافر کی ادا ہو جیسے
اس طرح کاٹ رہا ہوں ہمدم
زندگی کوئی سزا ہو جیسے
یوں بجھا آج چراغِ امید
یہ بھی مفلس کا دیا ہو جیسے
بندگی کون کرے بندہ نواز
اب تو ہر بندہ خدا ہو جیسے
یوں گرایا ہے نظر سے اس نے
اشک دامن سے گرا ہو جیسے
یاد ایامِ گزشتہ طالب
دل میں اک درد اٹھا ہو جیسے
اب تو طالب یہ گماں ہوتا ہے
وہ مجھے بھول گیا ہو جیسے
طالب دہلوی
No comments:
Post a Comment