Saturday, 18 April 2026

کوئی مقتول جفا ہو جیسے

 کوئی مقتول جفا ہو جیسے

یعنی تصویر وفا ہو جیسے

بارہا یوں بھی ہوا ہے محسوس

کوئی مجھ میں ہی چھپا ہو جیسے

کتنا مستغنیٔ درماں ہے یہ

درد خود اپنی دوا ہو جیسے

یوں شب و روز گزارے تجھ بن

وقت سولی پہ کٹا ہو جیسے

بات بے بات خفا ہو جانا

یہ بھی اس اس کی ادا ہو جیسے

اس طرح کھیل رہا ہے ہر شخص

زندگی ایک جوا ہو جیسے

دل مرحوم کا ماتم تو نہیں

ایک محشر سا بپا ہو جیسے

چشمک برق ترا کیا کہنا

اسی کافر کی ادا ہو جیسے

اس طرح کاٹ رہا ہوں ہمدم

زندگی کوئی سزا ہو جیسے

یوں بجھا آج چراغِ امید

یہ بھی مفلس کا دیا ہو جیسے

بندگی کون کرے بندہ نواز

اب تو ہر بندہ خدا ہو جیسے

یوں گرایا ہے نظر سے اس نے

اشک دامن سے گرا ہو جیسے

یاد ایامِ گزشتہ طالب

دل میں اک درد اٹھا ہو جیسے

اب تو طالب یہ گماں ہوتا ہے

وہ مجھے بھول گیا ہو جیسے


طالب دہلوی

No comments:

Post a Comment