حُرمتِ عشق تجھے داغ لگانے کا نہیں
بات بنتی نہ بنے بات سے جانے کا نہیں
یا خدا! خیر کہ ہم دونوں انا والے ہیں
وہ بلانے کا نہیں اور میں جانے کا نہیں
وحشتی ہوں سو گریبان کو آ سکتا ہوں
مجھ سے ڈرنے کا، مگر مجھ کو ڈرانے کا نہیں
بوڑھے اعصاب کہاں سہتے ہیں اولاد کا دکھ
میری تکلیف مِری ماں کو بتانے کا نہیں
ہم تو اک ایسی زمیں پر ہیں جہاں لاشیں ہیں
تم نے جو نقشہ دیا تھا وہ خزانے کا نہیں
کوئی مظلوم تِرے در پہ اگر آجائے
اس کی سننے کا اسے کچھ بھی سنانے کا نہیں
میری آواز میں آواز ملا شور بنے
دیکھنا پھر کوئی آواز دبانے کا نہیں
میں ازل تا بہ ابد اور ابد تا دائم
اس کا مطلب میں کسی ایک زمانے کا نہیں
درس یہ خاص ہمیں آلِؑ پیمبرﷺ سے ملا
سر کٹانے کا مگر سر کو جھکانے کا نہیں
میں ابوبکر و علی والا ہوں یونس تحسین
مجھ کو مُلّا کے مسالک میں پھنسانے کا نہیں
یونس تحسین
No comments:
Post a Comment