Monday, 13 April 2026

ہجر کے دور میں حالات بدل جاتے ہیں

 ہجر کے دور میں حالات بدل جاتے ہیں 

پھول مر جاتے ہیں سب پات بدل جاتے ہیں 

تو نے دیکھا ہے کبھی درد کے صحراؤں میں 

دھوپ بڑھنے لگے تب ساتھ بدل جاتے ہیں 

ہم پہ وہ وقت ہے اب چاہے خوشی آئے کہ غم 

آنکھ نم ہوتی ہے جذبات بدل جاتے ہیں 

میں نے لوگوں کو بھی موسم کا مقلد پایا 

بات ہوتی ہی نہیں ہاتھ بدل جاتے ہیں 

تم ابھی آئے ہو تم بانٹ لو چاہت کے ورق 

وقت کے ساتھ خیالات بدل جاتے ہیں

پہلے تھا بھوک کا ڈر اب ہے ردا خطرے میں

کیا خبر تھی ہمیں خطرات بدل جاتے ہیں

 یہ تو فطرت ہے برا ان کو نہ کہنا شاکر

تو نے دیکھا نہیں دن رات بدل جاتے ہیں


محمد عثمان شاکر

No comments:

Post a Comment