میرے دروازے پہ آج ان کی سواری کیسے
راستہ بھول گئی بادِ بہاری کیسے؟
تیشہ بردوش بہت ہیں کوئی فرہاد نہیں
جوئے شیر آج پہاڑوں سے ہو جاری کیسے
قاتلوں سے مِرے سرکار کی یاری کیسے
نیم وحشی ہے اگر صنفِ غزل جب یارو
زلفِ تہذیب و ادب اس نے سنواری کیسے
ان کی انگڑائی کا اک عکس ہے یہ قوسِ قزح
آسماں تُو نے یہ تصویر اتاری کیسے
بسترِ گُل پہ جو سوئے ہیں وہ کیا جانیں ظفر
رات ہو جاتی ہے بیمار پہ بھاری کیسے
ظفر محمود
No comments:
Post a Comment