Sunday, 19 April 2026

شہروں سے شہر یار کی تنہائیاں نہ پوچھ

 شہروں سے شہر یار کی تنہائیاں نہ پوچھ

لالے سے لالہ زار کی تنہائیاں نہ پوچھ

گلشن میں پھول دیکھ تو سبزے کا رنگ دیکھ

بٹتی ہوئی بہار کی تنہائیاں نہ پوچھ

جنت بدر ہوئے تو ملے ارض پہ رفیق

جنت میں کِردگار کی تنہائیاں نہ پوچھ

یاران تیز گام تو آگے⬅ نکل گئے

اڑتے ہوئے غبار کی تنہائیاں نہ پوچھ

میرا لہو گِرا تھا سرِ رہ اور اس کے بعد

تیغ و رسن کی دار کی تنہائیاں نہ پوچھ


طلعت فاروق

No comments:

Post a Comment