وہ جس کے ہجر میں ہم جاگتے تھے سوئے نہیں
کمال یہ ہے کہ اس سے بچھڑ کے روئے نہیں
وہ جن کے بیج سدا زخم زخم فصلیں دیں
ہماری آنکھوں میں وہ ایسے خواب بوئے نہیں
اسے کہو کہ اسے ڈھونڈنے نہ نکلیں گے
سو اتنا ذہن میں رکھیے کہ ہم کو کھوئے نہیں
تمہارے بعد بھی جینے کی اک سبیل تو ہے
تمہارے زخمِ جدائی جو ہم نے دھوئے نہیں
وہ جس کے دیس میں مجبوریوں کا موسم ہو
کہو کہ صحن میں کوئی بھی فصل بوئے نہیں
طلعت اخلاق احمد
No comments:
Post a Comment