کچھ بھی ہو مگر دل کی اطاعت نہ کریں گے
سوچا ہے کہ اب اور محبت نہ کریں گے
غیروں کی طرح اس سے سلوک اب کے کریں گے
اس بار ملے گا تو مروت نہ کریں گے
سچ بول کے رسوائی ہی رسوائی ملی ہے
اب سب سے بیاں اپنی حقیقت نہ کریں گے
انجام سے ہم چپ ہیں، مگر ایک چبھن ہے
کیا لوگ کبھی تجھ کو ملامت نہ کریں گے
یہ عہد ہے دشوار مگر پھر بھی ریحانہ
مر جائیں گے سانسوں کی تجارت نہ کریں گے
ریحانہ نواب
No comments:
Post a Comment