کاسہ بدست وقت سے سودا نہ کر سکے
خُود کو زمانے کے لیے رُسوا نہ کر سکے
ہر لفظ عکسِ سوز تھا، ہر نظم مُبتلا
لیکن ہم اپنے درد کو افشا نہ کر سکے
اسمِ حیات دفن تھا شورِ عدم کے بیچ
ہم سے مگر فریب کو سادہ نہ کر سکے
سایہ تھا سر نِگوں، بدن شب فُسردہ تھا
تب بھی چراغِ ہجر کو تنہا نہ کر سکے
اک شورِ خامشی تھا، مگر لب ہِلے نہیں
ہم اپنے انتشار کو نعرہ نہ کر سکے
زبیر احد
No comments:
Post a Comment