Showing posts with label ساجد پریمی. Show all posts
Showing posts with label ساجد پریمی. Show all posts

Monday, 11 April 2022

کاٹھ کی لڑکیاں بنا لی ہیں

 کاٹھ کی لڑکیاں بنا لی ہیں

میں نے کٹھ پتلیاں بنا لی ہیں

نام اس کا لکھا ہے کاغذ پر

کارگر انگلیاں بنا لی ہیں

آندھیو! تم گناہ کر ڈالو

پھوس کی جُھگیاں بنا لی ہیں

Friday, 7 January 2022

ہر طرف دھوپ کی چادر کو بچھانے والا

 ہر طرف دھوپ کی چادر کو بچھانے والا

کام پر نکلا ہے دنیا کو جگانے والا

اپنے ہر جرم کو پرکھوں کی وراثت کہہ کر

عیب کو ریت بتاتا ہے بتانے والا

آج اک لاش کی صورت وہ نظر آتا ہے

آتماؤں سے ملاقات کرانے والا

Friday, 17 December 2021

میاں وہ جان کترانے لگی ہے

 میاں وہ جان کترانے لگی ہے

تمنا مجھ کو سمجھانے لگی ہے

شرافت اس قدر رسوا ہوئی ہے

عمل پر اپنے شرمانے لگی ہے

جوانی کی میاں دہلیز پر ہے

غزل اب میری اترانے لگی ہے

Wednesday, 15 December 2021

لفظ آتے ہیں اور جاتے ہیں

 لفظ آتے ہیں اور جاتے ہیں

پھول ہونٹوں کے تھرتھراتے ہیں

پھول ہی پھول یاد آتے ہیں

آپ جب جب بھی مسکراتے ہیں

آپ جا کر ہوا سے کہہ دیجے

پھول پتے بھی گنگناتے ہیں

Tuesday, 14 December 2021

دوست اپنے ہیں لوگ اپنے ہیں

 دوست اپنے ہیں، لوگ اپنے ہیں

جھوٹ پر جن کے ہونٹ کپنے ہیں

خوش رہیں گے وہ دوست تم سے بھی

سامنے ان کے نام جپنے ہیں

یہ ادھیکار آپ کب دیں گے

کچھ ہمارے بھی یار! سپنے ہیں

Saturday, 25 September 2021

دل کے آنگن میں جو دیوار اٹھا لی جائے

 دل کے آنگن میں جو دیوار اُٹھا لی جائے

ایک کھڑکی بھی محبت کی بنا لی جائے

پاک سیرت ہیں بہت نُور کا پیکر ہیں وہ

ذہن میں حُسن کی تصویر بنا لی جائے

زیر کرنے کے لئے لاکھ طریقے ڈھونڈو

کیا ضروری ہے کہ دستار اُچھالی جائے