کاٹھ کی لڑکیاں بنا لی ہیں
میں نے کٹھ پتلیاں بنا لی ہیں
نام اس کا لکھا ہے کاغذ پر
کارگر انگلیاں بنا لی ہیں
آندھیو! تم گناہ کر ڈالو
پھوس کی جُھگیاں بنا لی ہیں
کاٹھ کی لڑکیاں بنا لی ہیں
میں نے کٹھ پتلیاں بنا لی ہیں
نام اس کا لکھا ہے کاغذ پر
کارگر انگلیاں بنا لی ہیں
آندھیو! تم گناہ کر ڈالو
پھوس کی جُھگیاں بنا لی ہیں
ہر طرف دھوپ کی چادر کو بچھانے والا
کام پر نکلا ہے دنیا کو جگانے والا
اپنے ہر جرم کو پرکھوں کی وراثت کہہ کر
عیب کو ریت بتاتا ہے بتانے والا
آج اک لاش کی صورت وہ نظر آتا ہے
آتماؤں سے ملاقات کرانے والا
میاں وہ جان کترانے لگی ہے
تمنا مجھ کو سمجھانے لگی ہے
شرافت اس قدر رسوا ہوئی ہے
عمل پر اپنے شرمانے لگی ہے
جوانی کی میاں دہلیز پر ہے
غزل اب میری اترانے لگی ہے
لفظ آتے ہیں اور جاتے ہیں
پھول ہونٹوں کے تھرتھراتے ہیں
پھول ہی پھول یاد آتے ہیں
آپ جب جب بھی مسکراتے ہیں
آپ جا کر ہوا سے کہہ دیجے
پھول پتے بھی گنگناتے ہیں
دوست اپنے ہیں، لوگ اپنے ہیں
جھوٹ پر جن کے ہونٹ کپنے ہیں
خوش رہیں گے وہ دوست تم سے بھی
سامنے ان کے نام جپنے ہیں
یہ ادھیکار آپ کب دیں گے
کچھ ہمارے بھی یار! سپنے ہیں
دل کے آنگن میں جو دیوار اُٹھا لی جائے
ایک کھڑکی بھی محبت کی بنا لی جائے
پاک سیرت ہیں بہت نُور کا پیکر ہیں وہ
ذہن میں حُسن کی تصویر بنا لی جائے
زیر کرنے کے لئے لاکھ طریقے ڈھونڈو
کیا ضروری ہے کہ دستار اُچھالی جائے