Friday, 7 January 2022

ہر طرف دھوپ کی چادر کو بچھانے والا

 ہر طرف دھوپ کی چادر کو بچھانے والا

کام پر نکلا ہے دنیا کو جگانے والا

اپنے ہر جرم کو پرکھوں کی وراثت کہہ کر

عیب کو ریت بتاتا ہے بتانے والا

آج اک لاش کی صورت وہ نظر آتا ہے

آتماؤں سے ملاقات کرانے والا

عقل کی آنکھ سے دیکھا ہے تمہارے چھل کو

تیسری آنکھ بناتا ہے، بنانے والا

اپنی معصوم بغاوت پہ بڑا ہے پرسن

کاٹھ کی توپ کھلونوں میں سجانے والا

تیر کی نوک پہ میناکشی رہتی ہے سدا

لکشے سادھے گا کہاں تک یہ نشانے والا

نیند پھر آئے گی ساجد تمہیں بے فکری سے

کام کوئی نہ کرو، دل کو دکھانے والا


ساجد پریمی

No comments:

Post a Comment