Friday, 7 January 2022

کیا کہوں کیا تلاش کرتی ہے

 کیا کہوں کیا تلاش کرتی ہے

دھوپ سایا تلاش کرتی ہے

زندگی موت سے نکلنے کا

آج رستہ تلاش کرتی ہے

میرے گھر میں پڑی پرانی گھڑی

وقت گزرا تلاش کرتی ہے

کوئی پوچھے چراغ کی لو سے

کیوں اندھیرا تلاش کرتی ہے

دیکھ کر آئینے میں وہ خود کو

اپنا چہرہ تلاش کرتی ہے

اب بھی شاید وہ ریت پر غازل

نام میرا تلاش کرتی ہے


غازل غدیر

No comments:

Post a Comment