کیا کہوں کیا تلاش کرتی ہے
دھوپ سایا تلاش کرتی ہے
زندگی موت سے نکلنے کا
آج رستہ تلاش کرتی ہے
میرے گھر میں پڑی پرانی گھڑی
وقت گزرا تلاش کرتی ہے
کوئی پوچھے چراغ کی لو سے
کیوں اندھیرا تلاش کرتی ہے
دیکھ کر آئینے میں وہ خود کو
اپنا چہرہ تلاش کرتی ہے
اب بھی شاید وہ ریت پر غازل
نام میرا تلاش کرتی ہے
غازل غدیر
No comments:
Post a Comment