پھولوں کو ویسے بھی مرجھانا ہے مرجھائیں گے
کھڑکیاں کھولیں تو سناٹے چلے آئیں گے
لاکھ ہم اجلی رکھیں شہر کی دیواروں کو
شہر نامہ تو بہرحال لکھے جائیں گے
راکھ رہ جائے گی روداد سنانے کے لیے
یہ تو مہمان پرندے ہیں چلے جائیں گے
پھولوں کو ویسے بھی مرجھانا ہے مرجھائیں گے
کھڑکیاں کھولیں تو سناٹے چلے آئیں گے
لاکھ ہم اجلی رکھیں شہر کی دیواروں کو
شہر نامہ تو بہرحال لکھے جائیں گے
راکھ رہ جائے گی روداد سنانے کے لیے
یہ تو مہمان پرندے ہیں چلے جائیں گے
بہت دھوکا کیا خود کو مگر کیا کر لیا میں نے
تماشا مجھ کو کرنا تھا تماشا کر لیا میں نے
یہاں بھی اب نئی آبادیوں کا شور سنتا ہوں
یہاں سے بھی نکلنے کا ارادہ کر لیا میں نے
سفر میں دھوپ کی شدت کہاں تک جھیلتا آخر
تِری یادوں کو اوڑھا اور سایہ کر لیا میں نے
آندھیوں کا خواب ادھورا رہ گیا
ہاتھ میں اک سوکھا پتا رہ گیا
شہر تو ثابت ہوا شہر خیال
آنکھ میں بس اک دھندلکا رہ گیا
آ گئے بارش کے دن دیوار پر
اک ذرا سا رنگ کچا رہ گیا
منظر عجب تھا اشکوں کو روکا نہیں گیا
ہنستا ہوا جو آیا تھا، ہنستا نہیں گیا
اک بار یوں ہی دیکھ لیا تھا اسے کہیں
پھر اس کے بعد شہر میں دیکھا نہیں گیا
تھی جس کے دم سے رونقِ محفل، ہما ہمی
دعوت میں اس غریب کو پوچھا نہیں گیا
دنیا کیا ہے برف کی اک الماری ہے
ایک ٹھٹھرتی نیند سبھی پر طاری ہے
کہرا اوڑھے اونگھ رہے ہیں خستہ مکاں
آج کی شب بیمار دیوں پر بھاری ہے
سب کانوں میں اک جیسی سرگوشی سی
ایک ہی جیسا درد زباں پر جاری ہے