Showing posts with label فاروق شفق. Show all posts
Showing posts with label فاروق شفق. Show all posts

Monday, 11 January 2021

پھولوں کو ویسے بھی مرجھانا ہے مرجھائیں گے

 پھولوں کو ویسے بھی مرجھانا ہے مرجھائیں گے

کھڑکیاں کھولیں تو سناٹے چلے آئیں گے

لاکھ ہم اجلی رکھیں شہر کی دیواروں کو

شہر نامہ تو بہرحال لکھے جائیں گے

راکھ رہ جائے گی روداد سنانے کے لیے

یہ تو مہمان پرندے ہیں چلے جائیں گے

Sunday, 10 January 2021

بہت دھوکا کیا خود کو مگر کیا کر لیا میں نے

 بہت دھوکا کیا خود کو مگر کیا کر لیا میں نے

تماشا مجھ کو کرنا تھا تماشا کر لیا میں نے

یہاں بھی اب نئی آبادیوں کا شور سنتا ہوں

یہاں سے بھی نکلنے کا ارادہ کر لیا میں نے

سفر میں دھوپ کی شدت کہاں تک جھیلتا آخر

تِری یادوں کو اوڑھا اور سایہ کر لیا میں نے

Friday, 1 January 2021

آندھیوں کا خواب ادھورا رہ گیا

 آندھیوں کا خواب ادھورا رہ گیا

ہاتھ میں اک سوکھا پتا رہ گیا

شہر تو ثابت ہوا شہر خیال

آنکھ میں بس اک دھندلکا رہ گیا

آ گئے بارش کے دن دیوار پر

اک ذرا سا رنگ کچا رہ گیا

Wednesday, 30 December 2020

منظر عجب تھا اشکوں کو روکا نہیں گیا

 منظر عجب تھا اشکوں کو روکا نہیں گیا

ہنستا ہوا جو آیا تھا، ہنستا نہیں گیا

اک بار یوں ہی دیکھ لیا تھا اسے کہیں

پھر اس کے بعد شہر میں دیکھا نہیں گیا

تھی جس کے دم سے رونقِ محفل، ہما ہمی

دعوت میں اس غریب کو پوچھا نہیں گیا

Tuesday, 29 December 2020

دنیا کیا ہے برف کی اک الماری ہے

 دنیا کیا ہے برف کی اک الماری ہے

ایک ٹھٹھرتی نیند سبھی پر طاری ہے

کہرا اوڑھے اونگھ رہے ہیں خستہ مکاں

آج کی شب بیمار دیوں پر بھاری ہے

سب کانوں میں اک جیسی سرگوشی سی

ایک ہی جیسا درد زباں پر جاری ہے