Sunday, 10 January 2021

بہت دھوکا کیا خود کو مگر کیا کر لیا میں نے

 بہت دھوکا کیا خود کو مگر کیا کر لیا میں نے

تماشا مجھ کو کرنا تھا تماشا کر لیا میں نے

یہاں بھی اب نئی آبادیوں کا شور سنتا ہوں

یہاں سے بھی نکلنے کا ارادہ کر لیا میں نے

سفر میں دھوپ کی شدت کہاں تک جھیلتا آخر

تِری یادوں کو اوڑھا اور سایہ کر لیا میں نے

کوئی اچھا نہیں سب لوگ اک جیسے ہیں بستی میں

نتیجہ یہ ہوا خود کو اکیلا کر لیا میں نے

کوئی موسم ہو کیسی ہی فضا ہو غم نہیں ہوتا

زمانے والا ہر اک رنگ پیدا کر لیا میں نے

یہ دنیا اپنے ڈھب کی تھی نہ دنیا والے اچھے تھے

مگر کیا کیجیئے پھر بھی گزارہ کر لیا میں نے


فاروق شفق

No comments:

Post a Comment