دوسرے جسم کی خواہش
آج پت جھڑ سے جیون میں پہلے پہل
میرے بے رنگ بنجر بدن کی زمیں
کلبلانے لگی
زلزلہ جسم میں ایسا برپا ہوا
سب دفینے خزینے بدن سے ابلنے لگے
دوسرے جسم کی خواہش
آج پت جھڑ سے جیون میں پہلے پہل
میرے بے رنگ بنجر بدن کی زمیں
کلبلانے لگی
زلزلہ جسم میں ایسا برپا ہوا
سب دفینے خزینے بدن سے ابلنے لگے
پی گیا میں آنسوؤں کو، دل پہ پتھر رکھ لیا
اس کے جانے کی خبر کو گھر کے اندر رکھ لیا
وار میری پیٹھ پہ کرتا رہا بھائی مگر
میں ہوا جب رو برو تو اس نے خنجر رکھ لیا
خامشی گہرائی وسعت اس قدر اچھی لگی
کہ دل بے تاب میں میں نے سمندر رکھ لیا
سوار ہو کے آ رہے ہیں بادلوں کے پنکھ پر
سنو بجیں گے اب ستار بارشوں کے پنکھ پر
تم اس کی بیوفائی سے ڈرا رہے ہو کیا مجھے
مِری تو زندگی کٹی ہے حادثوں کے پنکھ پر
میں اپنے سخت گیر باپ کو بتاؤں کیا سبب
بہا رہا ہوں آنسوؤں کو جگنوؤں کے پنکھ پر
جسم کے گھروندے میں آگ شور کرتی ہے
دل میں جب محبت کی چاندنی اترتی ہے
شام کے دھندلکوں میں ڈوبتا ہے یوں سورج
جیسے آرزو کوئی میرے دل میں مرتی ہے
دن میں ایک ملتی ہے، اور دوسری شب میں
دھوپ جب بچھڑتی ہے، چاندنی سنورتی ہے
تمہارا غم رہا دل میں کبھی عیاں نہ ہوا
یہ آگ ایسی جلی کہ کبھی دھواں نہ ہوا
چراغ شام یہ میرے لہو سے روشن ہے
کوئی ستارہ مِری شب پہ مہرباں نہ ہوا
کوئی بھی کام مکمل نہ ہو سکا اب تک
ایک آدھ عشق ہوا وہ بھی بے کراں نہ ہوا
مِرے دل میں خوشبو بسی تھی جو وہ مکان اپنا بدل گئی
کسی اور ابر کی چھاؤں میں بڑی دور مجھ سے نکل گئی
وہ جو برف ابھی تھی جمی ہوئی کسی مصلحت کے حصار میں
ذرا وقت کی جو ہوا لگی تو وہ ایک پَل میں پگھل گئی
مِرے گھر کی اونچی منڈیر پہ وہ جو کالی بلی تھی گھومتی
وہی آ کے چپکے سے رات میں مری فاختہ کو نگل گئی
کہانیاں خموش ہیں، پہیلیاں اُداس ہیں
ہنسی خوشی کے دن گئے حویلیاں اداس ہیں
کبھی کبھی تو باغ میں چلا آ گھُومتا ہوا
کہ ٹُوٹنے کی چاہ میں چمیلیاں اداس ہیں
پھلوں کے بوجھ سے لچک گئی ہیں ڈالیاں مگر
ابھی تلک گُلاب سی ہتھیلیاں اداس ہیں
گزشتہ رات کوئی چاند گھر میں اُترا تھا
وہ ایک خواب تھا یا بس نظر کا دھوکا تھا
ستارے اوس مِرے ساتھ صبح تک روئے
مگر وہ شخص تو پتھر کا جیسے ترشا تھا
بچھڑتے وقت انا درمیان تھی، ورنہ
منانا دونوں نے اک دوسرے کو چاہا تھا
وہ غزل کی کتاب ہے پیارے
اس کو پڑھنا ثواب ہے پیارے
وہ کبھی نرم چاندنی سی لگے
اور کبھی آفتاب ہے پیارے
عمر کچی ہے عشق کیا جانے
خامشی بھی جواب ہے پیارے
جس کی خاطر میں نے دنیا کی طرف دیکھا نہ تھا
وہ مجھے یوں چھوڑ جائے گا کبھی سوچا نہ تھا
اس کے آنسو ہی بتاتے تھے نہ اب لوٹے گا وہ
اس سے پہلے تو بچھڑتے وقت یوں روتا نہ تھا
رہ گیا تنہا میں اپنے دوستوں کی بھیڑ میں
اور ہمدم وہ بنا جس سے کوئی رشتہ نہ تھا