Showing posts with label عتیق انظر. Show all posts
Showing posts with label عتیق انظر. Show all posts

Wednesday, 13 July 2022

دوسرے جسم کی خواہش

 دوسرے جسم کی خواہش


آج پت جھڑ سے جیون میں پہلے پہل

میرے بے رنگ بنجر بدن کی زمیں

کلبلانے لگی

زلزلہ جسم میں ایسا برپا ہوا

سب دفینے خزینے بدن سے ابلنے لگے

Sunday, 20 February 2022

پی گیا میں آنسوؤں کو دل پہ پتھر رکھ لیا

 پی گیا میں آنسوؤں کو، دل پہ پتھر رکھ لیا

اس کے جانے کی خبر کو گھر کے اندر رکھ لیا

وار میری پیٹھ پہ کرتا رہا بھائی مگر

میں ہوا جب رو برو تو اس نے خنجر رکھ لیا

خامشی گہرائی وسعت اس قدر اچھی لگی

کہ دل بے تاب میں میں نے سمندر رکھ لیا

Monday, 7 February 2022

سوار ہو کے آ رہے ہیں بادلوں کے پنکھ پر

 سوار ہو کے آ رہے ہیں بادلوں کے پنکھ پر

سنو بجیں گے اب ستار بارشوں کے پنکھ پر

تم اس کی بیوفائی سے ڈرا رہے ہو کیا مجھے

مِری تو زندگی کٹی ہے حادثوں کے پنکھ پر

میں اپنے سخت گیر باپ کو بتاؤں کیا سبب

بہا رہا ہوں آنسوؤں کو جگنوؤں کے پنکھ پر

Friday, 20 August 2021

جسم کے گھروندے میں آگ شور کرتی ہے

 جسم کے گھروندے میں آگ شور کرتی ہے

دل میں جب محبت کی چاندنی اترتی ہے

شام کے دھندلکوں میں ڈوبتا ہے یوں سورج

جیسے آرزو کوئی میرے دل میں مرتی ہے

دن میں ایک ملتی ہے، اور دوسری شب میں

دھوپ جب بچھڑتی ہے، چاندنی سنورتی ہے

Saturday, 7 August 2021

تمہارا غم رہا دل میں کبھی عیاں نہ ہوا

 تمہارا غم رہا دل میں کبھی عیاں نہ ہوا

یہ آگ ایسی جلی کہ کبھی دھواں نہ ہوا

چراغ شام یہ میرے لہو سے روشن ہے

کوئی ستارہ مِری شب پہ مہرباں نہ ہوا

کوئی بھی کام مکمل نہ ہو سکا اب تک

ایک آدھ عشق ہوا وہ بھی بے کراں نہ ہوا

Sunday, 6 June 2021

مرے دل میں خوشبو بسی تھی جو وہ مکان اپنا بدل گئی

 مِرے دل میں خوشبو بسی تھی جو وہ مکان اپنا بدل گئی

کسی اور ابر کی چھاؤں میں بڑی دور مجھ سے نکل گئی

وہ جو برف ابھی تھی جمی ہوئی کسی مصلحت کے حصار میں

ذرا وقت کی جو ہوا لگی تو وہ ایک پَل میں پگھل گئی

مِرے گھر کی اونچی منڈیر پہ وہ جو کالی بلی تھی گھومتی

وہی آ کے چپکے سے رات میں مری فاختہ کو نگل گئی

Friday, 4 June 2021

کہانیاں خموش ہیں پہیلیاں اداس ہیں

 کہانیاں خموش ہیں، پہیلیاں اُداس ہیں

ہنسی خوشی کے دن گئے حویلیاں اداس ہیں

کبھی کبھی تو باغ میں چلا آ گھُومتا ہوا

کہ ٹُوٹنے کی چاہ میں چمیلیاں اداس ہیں

پھلوں کے بوجھ سے لچک گئی ہیں ڈالیاں مگر

ابھی تلک گُلاب سی ہتھیلیاں اداس ہیں

گزشتہ رات کوئی چاند گھر میں اترا تھا

 گزشتہ رات کوئی چاند گھر میں اُترا تھا

وہ ایک خواب تھا یا بس نظر کا دھوکا تھا

ستارے اوس مِرے ساتھ صبح تک روئے

مگر وہ شخص تو پتھر کا جیسے ترشا تھا

بچھڑتے وقت انا درمیان تھی، ورنہ

منانا دونوں نے اک دوسرے کو چاہا تھا

Thursday, 15 April 2021

وہ غزل کی کتاب ہے پیارے

 وہ غزل کی کتاب ہے پیارے

اس کو پڑھنا ثواب ہے پیارے

وہ کبھی نرم چاندنی سی لگے

اور کبھی آفتاب ہے پیارے

عمر کچی ہے عشق کیا جانے

خامشی بھی جواب ہے پیارے

Saturday, 27 February 2021

جس کی خاطر میں نے دنیا کی طرف دیکھا نہ تھا

 جس کی خاطر میں نے دنیا کی طرف دیکھا نہ تھا

وہ مجھے یوں چھوڑ جائے گا کبھی سوچا نہ تھا

اس کے آنسو ہی بتاتے تھے نہ اب لوٹے گا وہ

اس سے پہلے تو بچھڑتے وقت یوں روتا نہ تھا

رہ گیا تنہا میں اپنے دوستوں کی بھیڑ میں

اور ہمدم وہ بنا جس سے کوئی رشتہ نہ تھا