جو اپنے سائے سے ہر لمحہ خوف کھاتے ہیں
نکل کے دھوپ میں وہ لوگ کیسے آتے ہیں
لہو میں دیکھ کے تر سبز موسموں کا لباس
برہنہ برگِ شجر قہقہہ لگاتے ہیں
ثبوت دیتے ہیں وہ اپنی اعلیٰ ظرفی کا
ہر ایک طنز کو جو ہنس کے ٹال جاتے ہیں
جو اپنے سائے سے ہر لمحہ خوف کھاتے ہیں
نکل کے دھوپ میں وہ لوگ کیسے آتے ہیں
لہو میں دیکھ کے تر سبز موسموں کا لباس
برہنہ برگِ شجر قہقہہ لگاتے ہیں
ثبوت دیتے ہیں وہ اپنی اعلیٰ ظرفی کا
ہر ایک طنز کو جو ہنس کے ٹال جاتے ہیں
جب سے مِری جاناں نے پھیری ہے نظر اپنی
بے کیف ہے حد درجہ یہ شام و سحر اپنی
پُر شور ہواؤں نے کیا حال کیا سب کا
اب خیر مناتی ہے ہر شاخِ شجر اپنی
جس روز سے گزرا ہے لشکر کسی ظالم کا
اس دن سے لرزتی ہے یہ راہگزر اپنی
ہدیۂ تبریک
تِرا وجود ہے ایثار کی کتاب حسینؑ
تجھی پہ ختم ہے عشق و وفا کا باب حسینؑ
حیات دینِ محمدﷺ کو بخش دی تُو نے
تُو ہر زمانے میں بیشک ہے لاجواب حسینؑ
نرغے میں دُشمنوں کے ادا کی نماز عشق
حقانیت کے چرخ کا تارا حسین ہےؑ
لہو لہان فلسطین
آج پھر بربریت کا طوفان اٹھا
آج پھر رقصِ ابلیس جاری ہے
ارضِ فلسطین پر
آج پھر درد و غم ہیں سُلگتے ہوئے
آج پھر ہے لہو پوش ہر ایک بدن
مشتاق جاوید