Showing posts with label مشتاق جاوید. Show all posts
Showing posts with label مشتاق جاوید. Show all posts

Wednesday, 18 March 2026

جو اپنے سائے سے ہر لمحہ خوف کھاتے ہیں

 جو اپنے سائے سے ہر لمحہ خوف کھاتے ہیں

نکل کے دھوپ میں وہ لوگ کیسے آتے ہیں

لہو میں دیکھ کے تر سبز موسموں کا لباس

برہنہ برگِ شجر قہقہہ لگاتے ہیں

ثبوت دیتے ہیں وہ اپنی اعلیٰ ظرفی کا

ہر ایک طنز کو جو ہنس کے ٹال جاتے ہیں

Friday, 15 November 2024

جب سے مری جاناں نے پھیری ہے نظر اپنی

 جب سے مِری جاناں نے پھیری ہے نظر اپنی

بے کیف ہے حد درجہ یہ شام و سحر اپنی

پُر شور ہواؤں نے کیا حال کیا سب کا

اب خیر مناتی ہے ہر شاخِ شجر اپنی

جس روز سے گزرا ہے لشکر کسی ظالم کا

اس دن سے لرزتی ہے یہ راہگزر اپنی

Wednesday, 2 October 2024

ترا وجود ہے ایثار کی کتاب حسین

ہدیۂ تبریک


 تِرا وجود ہے ایثار کی کتاب حسینؑ

تجھی پہ ختم ہے عشق و وفا کا باب حسینؑ

حیات دینِ محمدﷺ کو بخش دی تُو نے

تُو ہر زمانے میں بیشک ہے لاجواب حسینؑ

نرغے میں دُشمنوں کے ادا کی نماز عشق

حقانیت کے چرخ کا تارا حسین ہےؑ

Thursday, 5 September 2024

آج پھر رقص ابلیس جاری ہے ارض فلسطین پر

 لہو لہان فلسطین


آج پھر بربریت کا طوفان اٹھا

آج پھر رقصِ ابلیس جاری ہے

ارضِ فلسطین پر

آج پھر درد و غم ہیں سُلگتے ہوئے

آج پھر ہے لہو پوش ہر ایک بدن


مشتاق جاوید