احساس کا قصہ ہے سنانا تو پڑے گا
ہر زخم کو اب پھول بنانا تو پڑے گا
ممکن ہے مِرے شعر میں ہر راز ہو لیکن
اک راز پسِ شعر چھپانا تو پڑے گا
آنکھوں کے جزیروں پہ ہیں نیلم کی قطاریں
خوابوں کا جنازہ ہے اٹھانا تو پڑے گا
احساس کا قصہ ہے سنانا تو پڑے گا
ہر زخم کو اب پھول بنانا تو پڑے گا
ممکن ہے مِرے شعر میں ہر راز ہو لیکن
اک راز پسِ شعر چھپانا تو پڑے گا
آنکھوں کے جزیروں پہ ہیں نیلم کی قطاریں
خوابوں کا جنازہ ہے اٹھانا تو پڑے گا
لبوں کی جنبش نوائے بلبل ہے شوخ لہجہ تِرا قیامت
دراز قامت غزال آنکھیں گلاب چہرہ ترا قیامت
گھٹائیں زلفیں خمار پلکیں مہین آنچل پہ ماہ و انجم
سہانی راتوں کی چاندنی میں ہے چھت پہ جلوہ ترا قیامت
زمین دل پر ادائے دلبر چلائے نشتر اٹھائے محشر
نظر اٹھانا نظر جھکانا ہر ایک حربہ ترا قیامت
کوئی عاشق کوئی پاگل کوئی فنکار ہو جائے
تمہیں دیکھیں اگر ہم دیکھتے ہی پیار ہو جائے
تِری زلفوں نے توڑا ہے گھٹاؤں کا بھرم جاناں
تِری شوخی کبھی قاتل، کبھی تلوار ہو جائے
لبوں سے گر چُرا لیں یہ تِری مخمور لالی کو
گلابِ گلشنِ مہر و وفا گلزار ہو جائے
پیٹ کی آگ میں برباد جوانی کر کے
پنچھی لوٹے ہیں ابھی نقل مکانی کر کے
خانۂ دل میں گھڑی بھر کو ٹھہرنا ہے انہیں
پھر گزر جائیں گے ہر بات پرانی کر کے
عشق اظہار کا طالب ہے نہ مطلوب نظر
فائدہ کیا ہے میاں شعلہ بیانی کر کے
اس بزم تصور میں بس یار کی باتیں ہیں
مژگاں کے قصیدے ہیں رخسار کی باتیں ہیں
ہونٹوں کے دریچوں پر دلدار کی باتیں ہیں
پردہ بھی ہے پردے میں دیدار کی باتیں ہیں
اظہار محبت کا انداز نرالا ہے
انکار کے لہجے میں اقرار کی باتیں ہیں
خواب نگر کے شہزادے نے ایسے بھی نروان لیا
چاند سجایا آنکھوں میں اور رات کو سر پر تان لیا
دُنیا داری کھیل تماشہ عشق و محبت راحت جاں
آگ میں اپنی جل کر ہم نے بن برگد یہ گیان لیا
وہ آنکھیں ہی ایسی تھیں ہم ڈُوب گئے انجانے میں
جان کے کس نے ٹُوٹی پھُوٹی کشتی میں طوفان لیا
اس نے نگاہ لطف و کرم بار بار کی
اب خیریت نہیں ہے دل بے قرار کی
ڈر یہ ہے کھُل نہ جائے کہیں راز عشق بھی
نبھنے لگی ہے ان سے مِرے رازدار کی
سب کے نصیب میں ہے کہاں موج درد و غم
مخصوص ہیں عنایتیں پروردگار کی
اک عشق ناتمام ہے رسوائیاں تمام
اگنے لگی ہیں جسم میں تنہائیاں تمام
کیا شہر آرزو تھا، بسا اور اجڑ گیا
اب سر کشیدہ پھرتی ہیں پروائیاں تمام
روز ازل سے سوچتے ذہنوں کی ہم سفر
صحرا کی دھوپ اور یہ پرچھائیاں تمام
کیا بتائیں غمِ فرقت میں کہاں سے گزرے
موسمِ گل سے جو نکلے تو خزاں سے گزرے
دل سے آنکھوں سے مکینوں سے مکاں سے گزرے
درد پھر درد ہے جب چاہے جہاں سے گزرے
حسن کی شوخ سری کا یہی حاصل نکلا
آتش عشق بڑھی آہ و فغاں سے گزرے
درد کو ضبط کی سرحد سے گزر جانے دو
اب سمیٹو نہ ہمیں، اور بکھر جانے دو
ہم سے ہو گا نہ کبھی اپنی خودی کا سودا
ہم اگر دل سے اترتے ہیں، اتر جانے دو
تم تعین نہ کرو اپنی حدوں کا ہرگز
جب بھی جیسے بھی جہاں جائے نظر، جانے دو