Showing posts with label ذاکر خان. Show all posts
Showing posts with label ذاکر خان. Show all posts

Wednesday, 27 September 2023

احساس کا قصہ ہے سنانا تو پڑے گا

 احساس کا قصہ ہے سنانا تو پڑے گا 

ہر زخم کو اب پھول بنانا تو پڑے گا 

ممکن ہے مِرے شعر میں ہر راز ہو لیکن 

اک راز پسِ شعر چھپانا تو پڑے گا 

آنکھوں کے جزیروں پہ ہیں نیلم کی قطاریں 

خوابوں کا جنازہ ہے اٹھانا تو پڑے گا 

Tuesday, 29 March 2022

لبوں کی جنبش نوائے بلبل ہے شوخ لہجہ ترا قیامت

 لبوں کی جنبش نوائے بلبل ہے شوخ لہجہ تِرا قیامت

دراز قامت غزال آنکھیں گلاب چہرہ ترا قیامت

گھٹائیں زلفیں خمار پلکیں مہین آنچل پہ ماہ و انجم

سہانی راتوں کی چاندنی میں ہے چھت پہ جلوہ ترا قیامت

زمین دل پر ادائے دلبر چلائے نشتر اٹھائے محشر

نظر اٹھانا نظر جھکانا ہر ایک حربہ ترا قیامت

Sunday, 1 August 2021

کوئی عاشق کوئی پاگل کوئی فنکار ہو جائے

 کوئی عاشق کوئی پاگل کوئی فنکار ہو جائے

تمہیں دیکھیں اگر ہم دیکھتے ہی پیار ہو جائے

تِری زلفوں نے توڑا ہے گھٹاؤں کا بھرم جاناں

تِری شوخی کبھی قاتل، کبھی تلوار ہو جائے

لبوں سے گر چُرا لیں یہ تِری مخمور لالی کو

گلابِ گلشنِ مہر و وفا گلزار ہو جائے

Sunday, 13 June 2021

پیٹ کی آگ میں برباد جوانی کر کے

 پیٹ کی آگ میں برباد جوانی کر کے

پنچھی لوٹے ہیں ابھی نقل مکانی کر کے

خانۂ دل میں گھڑی بھر کو ٹھہرنا ہے انہیں

پھر گزر جائیں گے ہر بات پرانی کر کے

عشق اظہار کا طالب ہے نہ مطلوب نظر

فائدہ کیا ہے میاں شعلہ بیانی کر کے

Thursday, 20 May 2021

اس بزم تصور میں بس یار کی باتیں ہیں

 اس بزم تصور میں بس یار کی باتیں ہیں

مژگاں کے قصیدے ہیں رخسار کی باتیں ہیں

ہونٹوں کے دریچوں پر دلدار کی باتیں ہیں

پردہ بھی ہے پردے میں دیدار کی باتیں ہیں

اظہار محبت کا انداز نرالا ہے

انکار کے لہجے میں اقرار کی باتیں ہیں

Saturday, 15 May 2021

خواب نگر کے شہزادے نے ایسے بھی نروان لیا

 خواب نگر کے شہزادے نے ایسے بھی نروان لیا

چاند سجایا آنکھوں میں اور رات کو سر پر تان لیا

دُنیا داری کھیل تماشہ عشق و محبت راحت جاں

آگ میں اپنی جل کر ہم نے بن برگد یہ گیان لیا

وہ آنکھیں ہی ایسی تھیں ہم ڈُوب گئے انجانے میں

جان کے کس نے ٹُوٹی پھُوٹی کشتی میں طوفان لیا

اس نے نگاہ لطف و کرم بار بار کی

 اس نے نگاہ لطف و کرم بار بار کی

اب خیریت نہیں ہے دل بے قرار کی

ڈر یہ ہے کھُل نہ جائے کہیں راز عشق بھی

نبھنے لگی ہے ان سے مِرے رازدار کی

سب کے نصیب میں ہے کہاں موج درد و غم

مخصوص ہیں عنایتیں پروردگار کی

Friday, 14 May 2021

اک عشق ناتمام ہے رسوائیاں تمام

 اک عشق ناتمام ہے رسوائیاں تمام

اگنے لگی ہیں جسم میں تنہائیاں تمام

کیا شہر آرزو تھا، بسا اور اجڑ گیا

اب سر کشیدہ پھرتی ہیں پروائیاں تمام

روز ازل سے سوچتے ذہنوں کی ہم سفر

صحرا کی دھوپ اور یہ پرچھائیاں تمام

Sunday, 31 January 2021

کیا بتائیں غم فرقت میں کہاں سے گزرے

 کیا بتائیں غمِ فرقت میں کہاں سے گزرے

موسمِ گل سے جو نکلے تو خزاں سے گزرے

دل سے آنکھوں سے مکینوں سے مکاں سے گزرے

درد پھر درد ہے جب چاہے جہاں سے گزرے

حسن کی شوخ سری کا یہی حاصل نکلا

آتش عشق بڑھی آہ و فغاں سے گزرے

Saturday, 16 January 2021

درد کو ضبط کی سرحد سے گزر جانے دو

 درد کو ضبط کی سرحد سے گزر جانے دو

اب سمیٹو نہ ہمیں، اور بکھر جانے دو

ہم سے ہو گا نہ کبھی اپنی خودی کا سودا

ہم اگر دل سے اترتے ہیں، اتر جانے دو

تم تعین نہ کرو اپنی حدوں کا ہرگز

جب بھی جیسے بھی جہاں جائے نظر، جانے دو