Saturday, 15 May 2021

خواب نگر کے شہزادے نے ایسے بھی نروان لیا

 خواب نگر کے شہزادے نے ایسے بھی نروان لیا

چاند سجایا آنکھوں میں اور رات کو سر پر تان لیا

دُنیا داری کھیل تماشہ عشق و محبت راحت جاں

آگ میں اپنی جل کر ہم نے بن برگد یہ گیان لیا

وہ آنکھیں ہی ایسی تھیں ہم ڈُوب گئے انجانے میں

جان کے کس نے ٹُوٹی پھُوٹی کشتی میں طوفان لیا

کون سا پردہ ہم سے تھا تم دل کی باتیں کہہ سکتے تھے

مُفت میں تم نے بات بڑھائی، غیروں کا احسان لیا

حرص و ہوس کا دور ہے اس میں بِکتے ہیں سب رشتے ناطے

جان پہ اپنی کیوں کر تم نے اوروں کا بہتان لیا

واقف کب تھا پیار سے پہلے لیکن ذاکر پیار کے بعد

قسمت ریکھا حُسن و ادا اور ناز و جفا سب جان لیا


ذاکر خان

No comments:

Post a Comment