راہ راست
جو حق پر ہے ایمان کامل ہمارا
بنا لے گا کیا زور باطل ہمارا
جو ہم متحد ہو کے رہتے وطن میں
نہ تھا کوئی مد مقابل ہمارا
غلامی کی خو بو مسلط ہے ہم پر
دماغ اب ہمارا نہ اب دل ہمارا
راہ راست
جو حق پر ہے ایمان کامل ہمارا
بنا لے گا کیا زور باطل ہمارا
جو ہم متحد ہو کے رہتے وطن میں
نہ تھا کوئی مد مقابل ہمارا
غلامی کی خو بو مسلط ہے ہم پر
دماغ اب ہمارا نہ اب دل ہمارا
نئی حد بندياں
نئی حد بندياں ہونے کو ہيں آئينِ گُلشن ميں
کہو بُلبل سے اب انڈے نہ رکھے آشيانے ميں
پچھتر لاکھ اک بےکار مد ميں صرف کر ديں گے
رعايا کے لیے کوڑی نہيں جن کے خزانے ميں
جو ارزاں ہے تو ان کی متاع آبرو، ورنہ
ذرا سی چيز بھی بے حد گِراں اس زمانے ميں
خدمت وطن
وطن کی خدمت بے لوث ہے ہر شخص پر لازم
یہی وہ کام ہے جو آدمی کے کام آتا ہے
لگا دی جاتی ہے حبِ وطن میں سر کی بازی بھی
اک ایسا بھی وفورِ جوش میں ہنگام آتا ہے
پلٹنے ہی کو ہے قسمت تمہاری اے وطن والو
تمہارے واسطے یہ عرش سے پیغام آتا ہے
اٹھو اٹھو اٹھو اٹھو
کمر کسو کمر کسو
سحر سے پہلے چل پڑو
کڑی ہے راہ دوستو
تھکن کا نام بھی نہ لو
بڑھے چلو بڑھے چلو