دیوار و در پہ لکھے ہوئے نام ہو گئے
بیٹھے بٹھائے مفت میں بدنام ہو گئے
ہو کر رہا وہی جو مقدر میں تھا لکھا
سب کوششوں کے ہاتھ بھی ناکام ہو گئے
اے دوست! راستے کا تو پتھر نہیں تھے ہم
بازار آ کے کس لیے بے دام ہو گئے
دیوار و در پہ لکھے ہوئے نام ہو گئے
بیٹھے بٹھائے مفت میں بدنام ہو گئے
ہو کر رہا وہی جو مقدر میں تھا لکھا
سب کوششوں کے ہاتھ بھی ناکام ہو گئے
اے دوست! راستے کا تو پتھر نہیں تھے ہم
بازار آ کے کس لیے بے دام ہو گئے
وصل کی شب میں سحر ڈھونڈ کے لایا نہ کرو
خواب ہی میں مجھے رہنے دو جگایا نہ کرو
میری آنکھوں میں نہاں ایک سیاہ شیشہ ہے
میری تصویر بھی اب مجھ کو دکھایا نہ کرو
جھلملاتا ہے اب اک جلوہ مِری آنکھوں میں
آندھیاں بن کے مِری نظروں پہ چھایا نہ کرو
ارتقاء
رات کے لاشے کو کندھوں پہ اٹھائے
تم یہاں کب سے کھڑے ہو
اور آگے
تیرگی کی روزن دیوار سے
روشنی کی کچھ لکیریں جھانکتی ہیں
اپنے کندھوں کا ہٹا کر بوجھ تم سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کوئی مشکل نہیں جس کا نہ حل پایا مدینے میں
خدا کی رحمتوں کا ہر طرف جلوا مدینے میں
مدینے میں جلائی شمع وحدت کی محمدﷺ نے
اُجالا نُور کا پہلے پہل پھیلا مدینے میں
تمنا ہے اگر کوئی تو بس اک یہ تمنا ہے
محمدﷺ مصطفیٰ کا دیکھ لوں روضہ مدینے میں
کہاں ہو تم گوتم؟
خون کے سیلاب میں ہر شہر ہے ڈُوبا ہوا
موت ہنستی جا رہی ہے زندگی کا لاش پر
کون ہے جو؟
ان درندوں کے بڑھتے تیز ناخن کاٹ ڈالے
کون ہے جو؟
خون کی اس پیاس کو