Showing posts with label مریم غزالہ. Show all posts
Showing posts with label مریم غزالہ. Show all posts

Monday, 31 August 2026

دیوار و در پہ لکھے ہوئے نام ہو گئے

 دیوار و در پہ لکھے ہوئے نام ہو گئے

بیٹھے بٹھائے مفت میں بدنام ہو گئے

ہو کر رہا وہی جو مقدر میں تھا لکھا

سب کوششوں کے ہاتھ بھی ناکام ہو گئے

اے دوست! راستے کا تو پتھر نہیں تھے ہم

بازار آ کے کس لیے بے دام ہو گئے

Saturday, 21 March 2026

وصل کی شب میں سحر ڈھونڈ کے لایا نہ کرو

 وصل کی شب میں سحر ڈھونڈ کے لایا نہ کرو

خواب ہی میں مجھے رہنے دو جگایا نہ کرو

میری آنکھوں میں نہاں ایک سیاہ شیشہ ہے

میری تصویر بھی اب مجھ کو دکھایا نہ کرو

جھلملاتا ہے اب اک جلوہ مِری آنکھوں میں

آندھیاں بن کے مِری نظروں پہ چھایا نہ کرو

Thursday, 7 November 2024

رات کے لاشے کو کندھوں پہ اٹھائے

 ارتقاء


رات کے لاشے کو کندھوں پہ اٹھائے

تم یہاں کب سے کھڑے ہو

اور آگے

تیرگی کی روزن دیوار سے

روشنی کی کچھ لکیریں جھانکتی ہیں

اپنے کندھوں کا ہٹا کر بوجھ تم سے

Sunday, 15 September 2024

کوئی مشکل نہیں جس کا نہ حل پایا مدینے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کوئی مشکل نہیں جس کا نہ حل پایا مدینے میں

خدا کی رحمتوں کا ہر طرف جلوا مدینے میں

مدینے میں جلائی شمع وحدت کی محمدﷺ نے

اُجالا نُور کا پہلے پہل پھیلا مدینے میں

تمنا ہے اگر کوئی تو بس اک یہ تمنا ہے

محمدﷺ مصطفیٰ کا دیکھ لوں روضہ مدینے میں

Friday, 13 September 2024

کیا یہاں گوتم نہ آئے گا کبھی

 کہاں ہو تم گوتم؟


خون کے سیلاب میں ہر شہر ہے ڈُوبا ہوا

موت ہنستی جا رہی ہے زندگی کا لاش پر

کون ہے جو؟

ان درندوں کے بڑھتے تیز ناخن کاٹ ڈالے

کون ہے جو؟

خون کی اس پیاس کو