آؤ خُوشیاں بانٹیں
کیا کبھی ان معصوم چہروں کو
دیکھا ہے تم نے
رنگ ہیں نہ ہی ہنسی
نہ آنکھوں میں چمک ہے
نہ دلوں میں بسی کوئی خُوشی
جسم خالی ہیں اُن کے قوّتوں سے
آؤ خُوشیاں بانٹیں
کیا کبھی ان معصوم چہروں کو
دیکھا ہے تم نے
رنگ ہیں نہ ہی ہنسی
نہ آنکھوں میں چمک ہے
نہ دلوں میں بسی کوئی خُوشی
جسم خالی ہیں اُن کے قوّتوں سے
سحر ہونے کو ہے
تو کیا ہُوا اگر آج
چہرے سے ہنسی غائب ہے
اُلجھا ہوا ہے ذہن میرا
نیند آنکھوں سے بھی خائف ہے
کہتے ہیں یہ سبھی لوگ مجھے
کہ شاید تمہیں کچھ ’’ایسا‘‘ ہوا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سمجھوں گا کہ حاصل ہوا مقصد حیات
گر جاں جدا ہو جسم سے مدینے میں
اور رُوح کرے طواف کعبے کا
اے کاش حشر میں مِلے
یوں میری محنتوں کا صلہ
آپﷺ مُسکرا کے دیکھیں مجھے
کشمیر پاکستان، دو قالب ایک جان
سوچوں میں سبز ہلالی پرچم
نظروں میں حسُنِ جنت نظیر
میرے دل میں بسا ہے پاکستان
دھڑکنوں میں کشمیر
جب خونِ ناحق گرتا ہے وہاں
آنکھوں سے پانی، بہتا ہے یہاں
گزرے دنوں وہ جو پرندے گئے جاں سے (پنچھی نامہ)
زندگی حسین تھی
خوبصورت رنگین تھی
میں اُڑتا تھا تازہ ہواﺅں میں
لیتا تھا سانسیں، کھُلی فضاﺅں میں
اُڑتا پھرتا تھا میں خوب چہچہاتا، پروں کو پھیلاتا
کبھی اُوپر چلا جاتا