Showing posts with label کاشف صدیقی. Show all posts
Showing posts with label کاشف صدیقی. Show all posts

Thursday, 6 August 2026

کیا کبھی ان معصوم چہروں کو دیکھا ہے تم نے

 آؤ خُوشیاں بانٹیں


کیا کبھی ان معصوم چہروں کو

دیکھا ہے تم نے

رنگ ہیں نہ ہی ہنسی

نہ آنکھوں میں چمک ہے

نہ دلوں میں بسی کوئی خُوشی

جسم خالی ہیں اُن کے قوّتوں سے 

Monday, 3 August 2026

تو کیا ہوا اگر آج چہرے سے ہنسی غائب ہے

 سحر ہونے کو ہے


تو کیا ہُوا اگر آج

چہرے سے ہنسی غائب ہے

اُلجھا ہوا ہے ذہن میرا

نیند آنکھوں سے بھی خائف ہے

کہتے ہیں یہ سبھی لوگ مجھے

کہ شاید تمہیں کچھ ’’ایسا‘‘ ہوا ہے

Sunday, 2 August 2026

گر جاں جدا ہو جسم سے مدینے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سمجھوں گا کہ حاصل ہوا مقصد حیات

گر جاں جدا ہو جسم سے مدینے میں

اور رُوح کرے طواف کعبے کا

اے کاش حشر میں مِلے

یوں میری محنتوں کا صلہ

آپﷺ مُسکرا کے دیکھیں مجھے

Monday, 3 June 2024

سوچوں میں سبز ہلالی پرچم

کشمیر پاکستان، دو قالب ایک جان


سوچوں میں سبز ہلالی پرچم

نظروں میں حسُنِ جنت نظیر

میرے دل میں بسا ہے پاکستان

دھڑکنوں میں کشمیر

جب خونِ ناحق گرتا ہے وہاں

آنکھوں سے پانی، بہتا ہے یہاں

Thursday, 26 October 2023

زندگی حسین تھی خوبصورت رنگین تھی

گزرے دنوں وہ جو پرندے گئے جاں سے (پنچھی نامہ)


زندگی حسین تھی

خوبصورت رنگین تھی

میں اُڑتا تھا تازہ ہواﺅں میں 

لیتا تھا سانسیں، کھُلی فضاﺅں میں

اُڑتا پھرتا تھا میں خوب چہچہاتا، پروں کو پھیلاتا

کبھی اُوپر چلا جاتا