Showing posts with label کمال جعفری. Show all posts
Showing posts with label کمال جعفری. Show all posts

Thursday, 18 November 2021

کچھ اپنے گلستاں سے کچھ ان کے گلستاں سے

 کچھ اپنے گلستاں سے کچھ اُن کے گلستاں سے

ہم لے کے پھول آئے دیکھو کہاں کہاں سے

وہ دھول اُڑا رہے تھے ہم پر جہاں جہاں سے

دامن بچا کے گزرے ہم بھی وہاں وہاں سے

شدت سے دھوپ کی جو خود ہی پگھل رہا ہو

مجھ کو بچاؤ ایسے کمزور سائباں سے

Friday, 12 November 2021

اجنبی سی لگ رہی ہے جانی پہچانی ہوا

 اجنبی سی لگ رہی ہے جانی پہچانی ہوا

چل رہی ہے شہر میں یہ کیسی دیوانی ہوا

نذرِ آتش ہو رہے ہیں پھر غریبوں کے مکاں

پھر چلی ہے شہر میں نفرت کی طوفانی ہوا

وادیوں میں ہر طرف آتا ہے سناٹا نظر

پھیر لیتی ہے جب اپنا رخ کہستانی ہوا

Friday, 5 November 2021

انا کے نام پہ جو اپنی شان بیچتے ہیں

 انا کے نام پہ جو اپنی شان بیچتے ہیں

وہ اپنے آباء کے نام و نشان بیچتے ہیں

تمام عمر جو نا آشنا رہے سچ سے

وہ جھوٹ بول کے اپنی زبان بیچتے ہیں

وہ جن کے ہاتھوں سے ٹوٹے مکاں شیشوں کے

وہ لوگ شہر میں اب سائبان بیچتے ہیں

Thursday, 4 November 2021

دہشت سے سب کو نفرت ہو

 دہشت سے سب کو نفرت ہو


جانے کس طرح یہ دہشت پھیلی

صبح تا شام ہے قیامت سی

جانے کس کوکھ میں پلی و بڑھی

اور سر اپنا یہ اٹھانے لگی

قتل و غارت گری مچانے لگی

Saturday, 14 August 2021

ابھی دکھی ہوں بہت اور بہت اداس ہوں میں

 ابھی دُکھی ہوں بہت اور بہت اُداس ہوں میں

ہنسوں تو کیسے کہ تصویر درد و یاس ہوں میں

قریب رہ کے بھی تو مجھ سے دُور دُور رہا

یہ اور بات کہ برسوں سے تیرے پاس ہوں میں

جو تیرگی میں دِیا بن کے روشنی بخشے

اس اعتماد کی ہلکی سی ایک آس ہوں میں