کچھ اپنے گلستاں سے کچھ اُن کے گلستاں سے
ہم لے کے پھول آئے دیکھو کہاں کہاں سے
وہ دھول اُڑا رہے تھے ہم پر جہاں جہاں سے
دامن بچا کے گزرے ہم بھی وہاں وہاں سے
شدت سے دھوپ کی جو خود ہی پگھل رہا ہو
مجھ کو بچاؤ ایسے کمزور سائباں سے
کچھ اپنے گلستاں سے کچھ اُن کے گلستاں سے
ہم لے کے پھول آئے دیکھو کہاں کہاں سے
وہ دھول اُڑا رہے تھے ہم پر جہاں جہاں سے
دامن بچا کے گزرے ہم بھی وہاں وہاں سے
شدت سے دھوپ کی جو خود ہی پگھل رہا ہو
مجھ کو بچاؤ ایسے کمزور سائباں سے
اجنبی سی لگ رہی ہے جانی پہچانی ہوا
چل رہی ہے شہر میں یہ کیسی دیوانی ہوا
نذرِ آتش ہو رہے ہیں پھر غریبوں کے مکاں
پھر چلی ہے شہر میں نفرت کی طوفانی ہوا
وادیوں میں ہر طرف آتا ہے سناٹا نظر
پھیر لیتی ہے جب اپنا رخ کہستانی ہوا
انا کے نام پہ جو اپنی شان بیچتے ہیں
وہ اپنے آباء کے نام و نشان بیچتے ہیں
تمام عمر جو نا آشنا رہے سچ سے
وہ جھوٹ بول کے اپنی زبان بیچتے ہیں
وہ جن کے ہاتھوں سے ٹوٹے مکاں شیشوں کے
وہ لوگ شہر میں اب سائبان بیچتے ہیں
دہشت سے سب کو نفرت ہو
جانے کس طرح یہ دہشت پھیلی
صبح تا شام ہے قیامت سی
جانے کس کوکھ میں پلی و بڑھی
اور سر اپنا یہ اٹھانے لگی
قتل و غارت گری مچانے لگی
ابھی دُکھی ہوں بہت اور بہت اُداس ہوں میں
ہنسوں تو کیسے کہ تصویر درد و یاس ہوں میں
قریب رہ کے بھی تو مجھ سے دُور دُور رہا
یہ اور بات کہ برسوں سے تیرے پاس ہوں میں
جو تیرگی میں دِیا بن کے روشنی بخشے
اس اعتماد کی ہلکی سی ایک آس ہوں میں