کچھ اپنے گلستاں سے کچھ اُن کے گلستاں سے
ہم لے کے پھول آئے دیکھو کہاں کہاں سے
وہ دھول اُڑا رہے تھے ہم پر جہاں جہاں سے
دامن بچا کے گزرے ہم بھی وہاں وہاں سے
شدت سے دھوپ کی جو خود ہی پگھل رہا ہو
مجھ کو بچاؤ ایسے کمزور سائباں سے
ہم آشیاں کریں گے تعمیر آسماں پر
ناگاہ اپنا رشتہ ٹوٹا اگر جہاں سے
اس کے گواہ خود ہیں خورشید و ماہ و انجم
گہرا بہت زمیں کا رشتہ ہے آسماں سے
گل ہو کہ خار دونوں سے دوستی نبھائیں
اتنی سی ہے گزارش اربابِ گلستاں سے
موسم بدل رہا ہے شاید کمال صاحب
ہیں شہر کے مناظر بالکل دھواں دھواں سے
کمال جعفری
No comments:
Post a Comment