Thursday, 18 November 2021

راحت جاں تھا وہی اب دشمن جاں ہو گیا

راحتِ جاں تھا وہی اب دُشمنِ جاں ہو گیا

ظرف مرہم اپنی قسمت سے نمکداں ہو گیا

زندگی پر بس نہیں ہے موت پر قابو نہیں

بس انہیں مجبوریوں کا نام انساں ہو گیا

خُون کی چھینٹوں سے وحشی نے کِھلائے اتنے گُل

اک چمن چھوٹا سا بر دیوارِ زِنداں ہو گیا

خون کا دعویٰ تو کیسا اور الٹا حشر میں

کٹ گیا میں جب مِرا قاتل پشیماں ہو گیا

ہٹیے ہٹیے نغمۂ ہستی سے لو اُٹھنے لگی

بچیے بچیے میرے جل بُجھنے کا ساماں ہو گیا

ضبط کی دُنیا ڈبو دی ایک آنسو نے مِرے

بُوند بھر پانی بڑھا اتنا کہ طوفاں ہو گیا

اشکِ خُونی نے مِرے نشتر وہ کیں گُلکاریاں

میرا دامن ایک چھوٹا سا گُلستاں ہو گیا


نشتر قائم گنجوی

محمد حنیف خاں نشتر

No comments:

Post a Comment