ہر کوئی اپنی اپنی کہانی لیے ہوئے
بس روئے جا رہا ہے زبانی لیے ہوئے
اب ڈھونڈتا ہے جانے وہ مُجھ کو کہاں کہاں
اِک شہرِ طلسمات کی رانی لیے ہوئے
بیٹھے ہوئے ہیں چوک میں کُچھ عاشقِ رسولؐ
دینے کو سب کو موت کا پانی لیے ہوئے
ہر کوئی اپنی اپنی کہانی لیے ہوئے
بس روئے جا رہا ہے زبانی لیے ہوئے
اب ڈھونڈتا ہے جانے وہ مُجھ کو کہاں کہاں
اِک شہرِ طلسمات کی رانی لیے ہوئے
بیٹھے ہوئے ہیں چوک میں کُچھ عاشقِ رسولؐ
دینے کو سب کو موت کا پانی لیے ہوئے
ملنے لگے ہیں اب تو یہ ملنا نہ چھوڑیۓ
ہم دل کے صاف ہیں ہمیں تنہا نہ چھوڑیۓ
ہم کو اکیلا کر کے تماشا نہ کیجیۓ
قابل نہیں جو آپ کے رُسوا نہ چھوڑیۓ
اِک دل کی آس کا ہے یہ ناتا نہ توڑیۓ
آنکھوں کو میری یوں ہی تو بھیگا نہ چھوڑیۓ
شارٹ سرکٹ
میں ہوں بجلی کے سرکٹ میں اُلجھا ہوا
چند سنجیدہ نقطوں کے محور میں گم
ہاتھ میں کچھ رزِسٹر کیپسٹر لیے
ملٹی میٹر گلے میں پھنسائے ہوئے
سوچتا ہوں کہ ان کو میں کیسے ملاؤں
کہ سرکٹ مِرا دیر تک یوں چلے
اس نے کہا وہ دُھول ہے، مجھ کو لگا کہ میں
جانے کوئی سراب تھا وہ بلبلہ، کہ میں
آنکھوں پہ اس نے چپکے سے یوں ہاتھ رکھ دئیے
میں نے کہا کہ کون ہو؟ بولی دبا کے میں
لے دوست فوٹو کھینچ مِرا زُوم کر کے دیکھ
اب یہ بتا؟ کہ عکس میں گِریہ بنا کہ میں