Showing posts with label سعد سین. Show all posts
Showing posts with label سعد سین. Show all posts

Thursday, 11 April 2024

ہر کوئی اپنی اپنی کہانی لیے ہوئے

 ہر کوئی اپنی اپنی کہانی لیے ہوئے

بس روئے جا رہا ہے زبانی لیے ہوئے

اب ڈھونڈتا ہے جانے وہ مُجھ کو کہاں کہاں

اِک شہرِ طلسمات کی رانی لیے ہوئے

بیٹھے ہوئے ہیں چوک میں کُچھ عاشقِ رسولؐ

دینے کو سب کو موت کا پانی لیے ہوئے

Friday, 29 December 2023

ملنے لگے ہیں اب تو یہ ملنا نہ چھوڑئیے

 ملنے لگے ہیں اب تو یہ ملنا نہ چھوڑیۓ

ہم دل کے صاف ہیں ہمیں تنہا نہ چھوڑیۓ

ہم کو اکیلا کر کے تماشا نہ کیجیۓ

قابل نہیں جو آپ کے رُسوا نہ چھوڑیۓ

اِک دل کی آس کا ہے یہ ناتا نہ توڑیۓ

آنکھوں کو میری یوں ہی تو بھیگا نہ چھوڑیۓ

Sunday, 20 August 2023

میں ہوں بجلی کے سرکٹ میں الجھا ہوا

شارٹ سرکٹ


میں ہوں بجلی کے سرکٹ میں اُلجھا ہوا 

چند سنجیدہ نقطوں کے محور میں گم

ہاتھ میں کچھ رزِسٹر کیپسٹر لیے 

ملٹی میٹر گلے میں پھنسائے ہوئے 

سوچتا ہوں کہ ان کو میں کیسے ملاؤں 

کہ سرکٹ مِرا دیر تک یوں چلے

Friday, 4 December 2020

اس نے کہا وہ دھول ہے مجھ کو لگا کہ میں

 اس نے کہا وہ دُھول ہے، مجھ کو لگا کہ میں

جانے کوئی سراب تھا وہ بلبلہ، کہ میں

آنکھوں پہ اس نے چپکے سے یوں ہاتھ رکھ دئیے

میں نے کہا کہ کون ہو؟ بولی دبا کے میں

لے دوست فوٹو کھینچ مِرا زُوم کر کے دیکھ

اب یہ بتا؟ کہ عکس میں گِریہ بنا کہ میں