Showing posts with label جلال ہری پوری. Show all posts
Showing posts with label جلال ہری پوری. Show all posts

Saturday, 20 June 2026

کہاں ہو گا کدھر ہو گا دل ناکام کیا ہو گا

 کہاں ہو گا کدھر ہو گا دل ناکام کیا ہو گا

خدا جانے محبت میں تِرا انجام کیا ہو گا

طبع آزاد پیدا کر،۔ دل بے خوف پیدا کر

جسے ڈر محتسب کا ہو وہ مے آشام کیا ہو گا

نیا دیوانہ ہوں مجھ کو نئی زنجیر سے باندھو

پرانا انتشارِ زلف میرا دام کیا ہو گا

Tuesday, 21 October 2025

شہ طیبہ محمد کتنا پیارا نام ہے تیرا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


شہ طیبہ محمدؐ کتنا پیارا نام ہے تیرا

لقب کتنا دلارا داعئ اسلام ہے تیرا

بنا کر رحمۃ اللعالمیں حق نے تجھے بھیجا

پیامِ امن دنیا کے لیے پیغام ہے تیرا

ہوا مبعوث عالم میں دلیلِ آخریں بن کر

جہاں کے ذرہ ذرہ کو ملا پیغام ہے تیرا

Sunday, 19 October 2025

نگاہ شوق نے میری جہاں دیکھا جدھر دیکھا

 نگاہ شوق نے میری جہاں دیکھا جدھر دیکھا

اسی کو جلوہ گر ہر سو بہ انداز دگر دیکھا

مریض عشق نے گھل گھل کے آخر جان ہی دے دی

دواؤں کا اثر میں نے تمہاری چارہ گر دیکھا

ہجوم رنج و غم حرمان و حسرت یاس و ناکامی

کہاں جز اس کے نخل عشق میں کوئی ثمر دیکھا

Saturday, 18 October 2025

پوچھتے ہیں وہ ہمیں درد کہاں اٹھتا ہے

 پوچھتے ہیں وہ ہمیں درد کہاں اُٹھتا ہے

اک جگہ ہو تو بتا دوں کہ یہاں اٹھتا ہے

بزم ہستی سے تو اٹھنے کا ہے دستور قدیم

دُکھ بڑا ہوتا ہے جب کوئی جواں اٹھتا ہے

جم کے بن جاتا ہے اک اور فلک زیر فلک

حسرتوں کا جو مِرے دل سے دھواں اٹھتا ہے