عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شہ طیبہ محمدؐ کتنا پیارا نام ہے تیرا
لقب کتنا دلارا داعئ اسلام ہے تیرا
بنا کر رحمۃ اللعالمیں حق نے تجھے بھیجا
پیامِ امن دنیا کے لیے پیغام ہے تیرا
ہوا مبعوث عالم میں دلیلِ آخریں بن کر
جہاں کے ذرہ ذرہ کو ملا پیغام ہے تیرا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شہ طیبہ محمدؐ کتنا پیارا نام ہے تیرا
لقب کتنا دلارا داعئ اسلام ہے تیرا
بنا کر رحمۃ اللعالمیں حق نے تجھے بھیجا
پیامِ امن دنیا کے لیے پیغام ہے تیرا
ہوا مبعوث عالم میں دلیلِ آخریں بن کر
جہاں کے ذرہ ذرہ کو ملا پیغام ہے تیرا
نگاہ شوق نے میری جہاں دیکھا جدھر دیکھا
اسی کو جلوہ گر ہر سو بہ انداز دگر دیکھا
مریض عشق نے گھل گھل کے آخر جان ہی دے دی
دواؤں کا اثر میں نے تمہاری چارہ گر دیکھا
ہجوم رنج و غم حرمان و حسرت یاس و ناکامی
کہاں جز اس کے نخل عشق میں کوئی ثمر دیکھا
پوچھتے ہیں وہ ہمیں درد کہاں اُٹھتا ہے
اک جگہ ہو تو بتا دوں کہ یہاں اٹھتا ہے
بزم ہستی سے تو اٹھنے کا ہے دستور قدیم
دُکھ بڑا ہوتا ہے جب کوئی جواں اٹھتا ہے
جم کے بن جاتا ہے اک اور فلک زیر فلک
حسرتوں کا جو مِرے دل سے دھواں اٹھتا ہے