عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
دیکھوں وہاں میں شان رسالت مآبﷺ کی
ہاں! میں بھی سر جھکائے کھڑا تھا حضورِ شاہ
لگتا ہے یوں، کہ جیسے یہ باتیں ہوں خواب کی
خوں رنگ ہوگئی ہے حضوری کی آرزو
شاید اِسے نصیب ہو صورت گلاب کی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی
دیکھوں وہاں میں شان رسالت مآبﷺ کی
ہاں! میں بھی سر جھکائے کھڑا تھا حضورِ شاہ
لگتا ہے یوں، کہ جیسے یہ باتیں ہوں خواب کی
خوں رنگ ہوگئی ہے حضوری کی آرزو
شاید اِسے نصیب ہو صورت گلاب کی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نعت اظہارِ ہنر سے ماوراء صنفِ سخن
جس میں سچائی کا ہر اک زاویہ درکار ہے
ہو سخن گو بے عمل تو نعتیہ اشعار کا
لفظ ہر اک خود اسی کی لوحِ جاں پر بار ہے
کیفیّت، احوال، قصہ، واقعہ، جو کچھ بھی ہو
راست لفظوں میں اگر ڈھل جائے، بیڑا پار ہے
ظالموں پر نہ افسوس کوئی کرے
قاتلوں پر نہ آہیں کوئی بھی بھرے
جن کو مٹی کا پیوند رب نے کیا
جو ہو مومن اُنہیں آج پُرسہ نہ دے
قاتلو! ہاں تم ہی ہو نا وہ
جس نے برسوں تلک
عجب اک شان سے دربار حق میں سرخرو ٹھہرے
جو دنیا کے کٹہرو ں میں عدو کے روبرو ٹھہرے
بھرے گلشن میں جن پہ انگلیاں اٹھیں وہی غنچے
فرشتوں کی کتابوں میں چمن کی آبرو ٹھہرے
اڑا کر لے گئی جنت کی خوشبو جن کو گلشن سے
انہی پھولوں کا مسکن کیوں نہ دل کی آرزو ٹھہرے
جب دیکھا مجھے ہو گئے سرشار پرندے
پہنانے کو لائے ہیں مجھے ہار پرندے
انسان نے گر زہر کو روکا نہ ہوا سے
ہو جائیں گے پھر دیکھنا بیمار پرندے
گلشن کے نگہبان کو دیتے ہیں سلامی
یہ بادِ صبا، پھول، یہ اشجار، پرندے
ویرانی میں سورج نے ہم سفری کی
رستے پر اک سائے نے گلکاری کی
اپنے جسم کو آخری مرتبہ دکھتے ہیں
ہم، جو باتیں سنتے ہیں کلہاڑی کی
روز گلے سے لگ کر ہم سے ملتی ہے
خوشبو آتی ہے ہم سے کستوری کی
دل اس کی سمت دیکھنے سے پہلے ڈر گیا
اک خواب پورا ہونے سے پہلے بکھر گیا
کیوں اس جگہ پہ ریت نے ڈیرے لگائے ہیں
دریا جو اک ردھم میں رواں تھا کدھر گیا
اتنی سی داستان مِرے عشق نے لکھی
سیڑھی پہ جیسے کوئی چڑھا اور اتر گیا
بیچ سمندر حشر بپا ہے
ایک مگرمچھ کھیل رہا ہے
آنکھ فریم ہے تصویروں کا
جو ہر حد تک پھیل چکا ہے
اندھے دریا میں رہتی ہے
مچھلی کی فطرت میں دیا ہے
نامور وہ ہو گئی ہے نامیوں کے ساتھ ساتھ
رقص کرتی ہے انگھوٹھی انگلیوں کے ساتھ ساتھ
اس کبوتر کے نشیمن میں ہے شاید ایک سانپ
قہقہے جو آ رہے ہیں سسکیوں کے ساتھ ساتھ
ہو نہ پایا ہے کبھی بھی دونوں جسموں کا ملاپ
ایک صحرا چل رہا ہے، پانیوں کے ساتھ ساتھ