Showing posts with label عزیز احسن. Show all posts
Showing posts with label عزیز احسن. Show all posts

Thursday, 5 September 2024

قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قائم ہو جب بھی بزم حساب و کتاب کی

دیکھوں وہاں میں شان رسالت مآبﷺ کی

ہاں! میں بھی سر جھکائے کھڑا تھا حضورِ شاہ

لگتا ہے یوں، کہ جیسے یہ باتیں ہوں خواب کی

خوں رنگ ہوگئی ہے حضوری کی آرزو

شاید اِسے نصیب ہو صورت گلاب کی

Saturday, 25 May 2024

نعت اظہار ہنر سے ماورا صنف سخن

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نعت اظہارِ ہنر سے ماوراء صنفِ سخن

جس میں سچائی کا ہر اک زاویہ درکار ہے

ہو سخن گو بے عمل تو نعتیہ اشعار کا

لفظ ہر اک خود اسی کی لوحِ جاں پر بار ہے

کیفیّت، احوال، قصہ، واقعہ، جو کچھ بھی ہو

راست لفظوں میں اگر ڈھل جائے، بیڑا پار ہے

Wednesday, 8 May 2024

ظالموں پر نہ افسوس کوئی کرے

 ظالموں پر نہ افسوس کوئی کرے

قاتلوں پر نہ آہیں کوئی بھی بھرے

جن کو مٹی کا پیوند رب نے کیا

جو ہو مومن اُنہیں آج پُرسہ نہ دے

قاتلو! ہاں تم ہی ہو نا وہ 

جس نے برسوں تلک

Monday, 16 October 2023

عجب اک شان سے دربار حق میں سرخرو ٹھہرے

 عجب اک شان سے دربار حق میں سرخرو ٹھہرے

جو دنیا کے کٹہرو ں میں عدو کے روبرو ٹھہرے

بھرے گلشن میں جن پہ انگلیاں اٹھیں وہی غنچے

فرشتوں کی کتابوں میں چمن کی آبرو ٹھہرے

اڑا کر لے گئی جنت کی خوشبو جن کو گلشن سے

انہی پھولوں کا مسکن کیوں نہ دل کی آرزو ٹھہرے

Friday, 8 October 2021

جب دیکھا مجھے ہو گئے سرشار پرندے

 جب دیکھا مجھے ہو گئے سرشار پرندے

پہنانے کو لائے ہیں مجھے ہار پرندے

انسان نے گر زہر کو روکا نہ ہوا سے

ہو جائیں گے پھر دیکھنا بیمار پرندے

گلشن کے نگہبان کو دیتے ہیں سلامی

یہ بادِ صبا، پھول، یہ اشجار، پرندے

Wednesday, 6 October 2021

ویرانی میں سورج نے ہمسفری کی

 ویرانی میں سورج نے ہم سفری کی

رستے پر اک سائے نے گلکاری کی

اپنے جسم کو آخری مرتبہ دکھتے ہیں

ہم، جو باتیں سنتے ہیں کلہاڑی کی

روز گلے سے لگ کر ہم سے ملتی ہے

خوشبو آتی ہے ہم سے کستوری کی

Monday, 4 October 2021

دل اس کی سمت دیکھنے سے پہلے ڈر گیا

 دل اس کی سمت دیکھنے سے پہلے ڈر گیا

اک خواب پورا ہونے سے پہلے بکھر گیا

کیوں اس جگہ پہ ریت نے ڈیرے لگائے ہیں

دریا جو اک ردھم میں رواں تھا کدھر گیا

اتنی سی داستان مِرے عشق نے لکھی

سیڑھی پہ جیسے کوئی چڑھا اور اتر گیا

Sunday, 3 October 2021

بیچ سمندر حشر بپا ہے

 بیچ سمندر حشر بپا ہے

ایک مگرمچھ کھیل رہا ہے

آنکھ فریم ہے تصویروں کا

جو ہر حد تک پھیل چکا ہے

اندھے دریا میں رہتی ہے

مچھلی کی فطرت میں دیا ہے

نامور وہ ہو گئی ہے نامیوں کے ساتھ ساتھ

 نامور وہ ہو گئی ہے نامیوں کے ساتھ ساتھ

رقص کرتی ہے انگھوٹھی انگلیوں کے ساتھ ساتھ

اس کبوتر کے نشیمن میں ہے شاید ایک سانپ

قہقہے جو آ رہے ہیں سسکیوں کے ساتھ ساتھ

ہو نہ پایا ہے کبھی بھی دونوں جسموں کا ملاپ

ایک صحرا چل رہا ہے، پانیوں کے ساتھ ساتھ