در سیرتِ ملوک (بادشاہوں کی عادات کا بیان)
چار خصلت اے برادر در جہاں
اے بھائی چار عادتیں دنیا میں
پادشاہاں را ہمی دارد زیاں
بادشاہوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں
پادشہ چوں برملا خنداں بود
بادشاہ مجمعِ عام میں ہنستا رہتا ہے
در سیرتِ ملوک (بادشاہوں کی عادات کا بیان)
چار خصلت اے برادر در جہاں
اے بھائی چار عادتیں دنیا میں
پادشاہاں را ہمی دارد زیاں
بادشاہوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں
پادشہ چوں برملا خنداں بود
بادشاہ مجمعِ عام میں ہنستا رہتا ہے
در بیانِ فوائدِ خاموشی (خاموشی کی فوائد کے بیان میں)
اے برادر گر تو ہستی حق طلب
اے بھائی اگر تجھے حق کی تلاش ہے
جُز بہ فرمانِ خُدا مکشائی لب
تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے علاقہ لب مت کھول
گر خبر داری ز حیّ لا یموت
اگر زندہ اور کبھی نہ مرنے والی ذاتِ ربانی سے آگاہ ہے
در بیانِ عافیت
از بلا تا رستہ گردی اے عزیز
اے عزیز مصیبت سے چھٹکارہ کی راہ
باز باید داشتن دست از دو چیز
دو چیزوں سے بے تعلق رہنا ہے
رو تو دست از نفس و دنیا بازدار
زندگی نفس اور دنیا سے الگ ہو کر گزار
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
در نعت سیدالمرسلینﷺ (سیدالمرسلینﷺ کی تعریف میں)
بعد از گوئیم نعت مصطفٰے
حمد ربی کے بعد ہم رسولﷺ کی تعریف کرتے ہیں
آں کہ عالم یافت از نورش صفا
جن کے وجود پُر نُور سے عالم پاک و صاف ہوا
سیدِ کونین، ختم المُرسلیں
ملا کرو کبھی ہم سے تو زندگی کی طرح
یہ کیا کہ دیکھ کے اُٹھ جاؤ اجنبی کی طرح
سمٹ سکو تو سمٹ جاؤ ماہ تاب صفت
بکھر سکو تو بکھر جاؤ چاندنی کی طرح
تمہاری ریشمی زُلفیں رُخِ حیات کی ضو
مسخر کے دوش پہ مانوس تیرگی کی طرح
کوہِ غم ٹوٹ پڑے دید و دل پر کتنے
قافلے درد کے آئے ہیں برابر کتنے
خشک کانٹوں سے ٹپکتا رہا کلیوں کا لہو
قتل گاہوں سے ملے پھول سے پیکر کتنے
ہم ہیں منصور، لبِ دار نے چوما ہم کو
ہم ہیں سقراط ملے زہر کے ساغر کتنے