Showing posts with label اسلم شاہد. Show all posts
Showing posts with label اسلم شاہد. Show all posts

Friday, 4 October 2024

اپنے رہبر کو جو دیکھا تو خیال آیا ہے

 طنزیہ کلام


اپنے رہبر کو جو دیکھا تو خیال آیا ہے

کس بُلندی پہ یہاں اب کے زوال آیا ہے

کیسے ٹُوٹا ہے تیرے گرد انا کا پہرہ

آج لہجے میں تیرے کیسا ملال آیا ہے

لوٹ آیا ہے، بہت خوب، پہ ڈھلتے سُورج

اپنا سب رُوپ تُو غیروں پہ اُچھال آیا ہے

Saturday, 24 April 2021

تم سے ملنے کی آس رکھتے ہیں

 تم سے ملنے کی آس رکھتے ہیں

بس یہ پُونجی ہی پاس رکھتے ہیں

من کے مَیلے جو لوگ ہوتے ہیں

تن پہ اُجلا لباس رکھتے ہیں

جن کے ہونٹوں پر مُسکراہٹ ہو

دل وہ اکثر اُداس رکھتے ہیں

Thursday, 22 April 2021

تری تشہیر کرتے ہیں گریباں چاک رکھتے ہیں

 تری تشہیر کرتے ہیں گریباں چاک رکھتے ہیں

یہ دیوانے محبت کا سلیقہ خاک رکھتے ہیں

کچھ اس انداز سے ہم نے گزاری ہے زمانے میں

نگاہوں میں تبسم ہے،۔ دلِ نمناک رکھتے ہیں

جنوں میں سرنِگوں ہو کر جھکاتے ہیں زمانے کو

رہِ الفت کے افتادہ دلوں پر دھاک رکھتے ہیں