طنزیہ کلام
اپنے رہبر کو جو دیکھا تو خیال آیا ہے
کس بُلندی پہ یہاں اب کے زوال آیا ہے
کیسے ٹُوٹا ہے تیرے گرد انا کا پہرہ
آج لہجے میں تیرے کیسا ملال آیا ہے
لوٹ آیا ہے، بہت خوب، پہ ڈھلتے سُورج
اپنا سب رُوپ تُو غیروں پہ اُچھال آیا ہے
طنزیہ کلام
اپنے رہبر کو جو دیکھا تو خیال آیا ہے
کس بُلندی پہ یہاں اب کے زوال آیا ہے
کیسے ٹُوٹا ہے تیرے گرد انا کا پہرہ
آج لہجے میں تیرے کیسا ملال آیا ہے
لوٹ آیا ہے، بہت خوب، پہ ڈھلتے سُورج
اپنا سب رُوپ تُو غیروں پہ اُچھال آیا ہے
تم سے ملنے کی آس رکھتے ہیں
بس یہ پُونجی ہی پاس رکھتے ہیں
من کے مَیلے جو لوگ ہوتے ہیں
تن پہ اُجلا لباس رکھتے ہیں
جن کے ہونٹوں پر مُسکراہٹ ہو
دل وہ اکثر اُداس رکھتے ہیں
تری تشہیر کرتے ہیں گریباں چاک رکھتے ہیں
یہ دیوانے محبت کا سلیقہ خاک رکھتے ہیں
کچھ اس انداز سے ہم نے گزاری ہے زمانے میں
نگاہوں میں تبسم ہے،۔ دلِ نمناک رکھتے ہیں
جنوں میں سرنِگوں ہو کر جھکاتے ہیں زمانے کو
رہِ الفت کے افتادہ دلوں پر دھاک رکھتے ہیں